وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی کرپشن کے میرے پاس ثبوت موجود ہیں،مولانا کو سب سے زیادہ کرپشن پر ٹور ٹولے کا سربراہ بنایا گیا ہے،بیرونی قوتوں کے لئے کام کرنے والا شخص کرپشن بچائو تحریک کی سربراہی کررہا ہے،مولانا فضل الرحمان ملک میں فرقہ واریت پھیلانے میں ملوث رہا ہے،میرے پاس ان کے بیرونی …

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی کرپشن کے میرے پاس ثبوت موجود ہیں،مولانا کو سب سے زیادہ کرپشن پر ٹور ٹولے کا سربراہ بنایا گیا ہے،بیرونی قوتوں کے لئے کام کرنے والا شخص کرپشن بچائو تحریک کی سربراہی کررہا ہے،مولانا فضل الرحمان ملک میں فرقہ واریت پھیلانے میں ملوث رہا ہے،میرے پاس ان کے بیرونی قوتوں کے آلہ کار کے ثبوت موجود ہیں۔جمعہ کو وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفتی محمود جب ڈیرہ اسماعیل آئے تو ان کی کوئی جائیداد نہیں تھی،فضل الرحمان نے اربوں روپے کی کرپشن کی،مولانا اگر تردید کریں گے تو میں ثبوت دوں گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جب کشمیر کا معاملہ اجاگر کیا تب مولانا نے آزادی مارچ شروع کیا، آزادی مارچ سے پہلے اوربعد مولانا کے عالمی قوتوں سے رابطے تھے،مولانا فضل الرحمان ان رابطوں کا جواب دیں،مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا تھا انہوں نے بیرونی اشاروں پر آزادی مارچ کیا۔علی آمین نے کہا کہ قوم کو بتائیں بھارت کے سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ ملاقات میں آپکی کیا بات چیت ہوئی؟انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایم آئی سکس کے ساتھ اپنے رابطوں کا جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا بتائیں کہ انہوں نے بے نامی جائیدادیں کیسے بنائیں،مریم صفدر اپنے باپ کی کرپشن بچانے کے سرگرم ہے۔اس موقع پر انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائیں جس کے مطابق فضل الرحمان کا آبائی علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھر اور ایک پلاٹ ہے،اسلام آباد ایف ایٹ میں ایک بنگلہ اوردوبئی میں ایک فلیٹ ان کی ملکیت ہے،اس کے علاوہ پشاور،کراچی اور کویٹہ میں فلیٹس اور دکانیں ان کی ملکیت ہیں،انہوں نے حال ہی میں چیک شہزاد میں تین ارب کی اراضی خریدی،ان کے شور کوٹ میں ایک گھر،مدرسہ اور کئی ایکڑ اراضی ملکیت ہے،عبدالخیل ڈی آئی خان میں ایک گھر،مدرسہ اور زرعی اراضی ان کی ملکیت ہے۔