اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور سے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر راجہ منصور خان نے ملاقات کی، ملاقات میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورت حال آئندہ آنے والے انتخابات اور مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر علی امین گنڈاپورنے کہا کہ آئندہ آزاد کشمیر اورگلگت …
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور سے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر راجہ منصور خان کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور سے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر راجہ منصور خان نے ملاقات کی، ملاقات میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورت حال آئندہ آنے والے انتخابات اور مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر علی امین گنڈاپورنے کہا کہ آئندہ آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں عوام کی طاقت سے تحریک انصاف حکومت میں آئے گی۔ آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے کارکن پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں دیگر جماعتوں سے بھی کارکنا تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں جس سے وزیراعظم عمران خان کے موقف کی تائید ہوتی ہے تحریک انصاف کی حکومت نے آزاد کشمیر میں برابری کی بنیاد پر فنڈز جاری کیے حالانکہ ماضی میں اگر آزاد کشمیر اور وفاق میں مختلف حکومتیں ہوتی تھیں تو فنڈز میں رکاوٹیں ڈالی جاتی تھیں۔ ہم نے ایسا نہیں کیا۔ آزاد کشمیر کے عوام ووٹ کی پرچی سے تحریک انصاف پر اعتماد کریں گے۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کا رحجان تحریک انصاف کی طرف ہے۔ آزاد کشمیر میں اہم اور بڑے پراجیکٹس کا آغاز کریں گے جس سے عوام کو دیرپا فائدہ پہنچے گا۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ بھارت کو عالمی قوانین پر عمل کرنا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے مودی سرکار نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائیں اور مقبوضہ کشمیر کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس 370اور35Aکا خاتمہ اور ڈومیسائل جاری کرنے کا عمل قابل مذمت ہے۔ اقوام متحدہ کو اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں مسئلہ کشمیر پہلی بار فلیش پوائنٹ کی طرح ابھر کر سامنے آیا اور موجودہ حکومت بھرپور انداز سے کشمیریوں کے مقدمے کو مضبوط بنیاد پر لڑ رہی ہے۔ لاک ڈاؤن اور کرفیو کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن کشمیریوں کا حوصلہ اور جذبہ پوری طرح جوان ہے۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہ تو دبا سکا ہے اور نہ ہی دبا سکے گا۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو تعمیر و ترقی میں برابری کی بنیاد پر ترجیحات میں شامل کیا۔ آزاد کشمیر کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ماسوائے پروپیگنڈے کے کچھ بھی نہیں۔ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کا گٹھ جوڑ اپنی کرپشن بچانے اور احتساب کے عمل سے بھاگنے کی ناکام سازش ہے۔ نوازشریف چار ہفتوں کا کہہ کر گئے 8 ماہ سے غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلی بار اصل تکلیف اپنی جیب خرچے سے ڈیزل حاصل کرنے پر ہو رہی ہے۔ ان کی تکلیف کا ہر کسی کو علم ہے۔ جب کبھی بھی دوبارہ الیکشن ہوں گے فضل الرحمٰن اسمبلی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔ بلاول بھٹو کی سیاست اناڑیوں کی طرح ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جس طرز سے گلگت اور آزاد کشمیر میں حکومتیں لاتے رہے تحریک انصاف ایسا کبھی بھی نہیں کرے گی۔








