اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان اور روانڈا مشرقی افریقی کمیونٹی (ای اے سی) کی 500 ملین افراد کی بڑی صارف مارکیٹ تک رسائی کے لیے کراچی سے مشرقی افریقی بندرگاہوں بشمول جبوتی اور ممباسا تک براہ راست سمندری راستوں سے استفادہ کے خواہشمند ہیں، مارکیٹ کی مالیت 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے …
پاکستان اور روانڈا کا مشرقی افریقہ کی 500 ملین صارف مارکیٹ تک براہ راست سمندری روابط بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان اور روانڈا مشرقی افریقی کمیونٹی (ای اے سی) کی 500 ملین افراد کی بڑی صارف مارکیٹ تک رسائی کے لیے کراچی سے مشرقی افریقی بندرگاہوں بشمول جبوتی اور ممباسا تک براہ راست سمندری راستوں سے استفادہ کے خواہشمند ہیں، مارکیٹ کی مالیت 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور روانڈا کی ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو نے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے جہاز رانی کے اخراجات میں 30 فیصد تک کمی اور کراچی-جبوتی شپنگ لائن کے ذریعے ٹرانزٹ اوقات میں نمایاں کمی کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گوادر کو افریقہ کے لیے مستقبل کے برآمدی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پاکستانی ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز اور ایگری ٹیک مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے جبکہ روانڈا کی چائے، کافی اور ایوکاڈو کی درآمدات میں بھی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی بلیو اکانومی کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی میری ٹائم فریم ورک کے تحت تجارتی امکانات کو وسعت دینا ہے۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ روانڈا لینڈ لاک ہونے کے باوجود جبوتی اور ممباسا کو پاکستان کے ساتھ تجارت کے لیے بنیادی گیٹ ویز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تزویراتی طور پر ایک اہم ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست سمندری روابط مشرقی افریقہ کے لیے پاکستانی برآمدات میں آسانیاں پیدا کریں گے جبکہ روانڈا کے تجارتی سامان کی جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کو بھی بہتر بنائیں گے۔
ملاقات کے دوران ممکنہ کراچی-ممباسا روٹ کا بھی جائزہ لیا گیا جو علاقائی انضمام کو مضبوط بنا سکتا ہے اور ای اے سی اور اس سے آگے پاکستان کے سمندری کردار کو وسعت دے سکتا ہے۔فریقین نے بزنس ٹو بزنس پلیٹ فارمز کی تلاش اور مجوزہ افریقہ ہائوس کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ کاروبار کو نئی تجارتی راہداریوں سے استفادہ میں مدد ملے۔ واضح رہے کہ بہتر رابطوں سے ٹرانزٹ کے اوقات میں ہفتوں کی کمی کی توقع ہے جبکہ پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں اضافہ ہو گا اور روانڈا کی پیداوار کو علاقائی منڈیوں میں زیادہ قابل عمل بنایا جائے گا۔ ملاقات بین الاقوامی میری ٹائم کنونشنز کے تحت باہمی تجارتی روابط کے فروغ کے لئے قدامات کے جائزہ کے سلسلہ میں کی گئی بشمول SOLAS، MARPOL، UNCLOS اور میری ٹائم لیبر کنونشن وغیرہ جن کے بارے میں وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ اس سے محفوظ، موثر اور پائیدار شپنگ کے لیے یکساں عالمی معیار فراہم کئے جاتے ہیں۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو نے کہا کہ لاجسٹکس کا مضبوط انضمام پائیدار زراعت اور ہلکی مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں ناقابل استعمال صلاحیتوں سے استفادہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابل اعتماد سمندری روابط روانڈا کی زرعی برآمدات کو فروغ دیں گے اور پاکستان کو برآمدات کی بنیاد کو متنوع مارکیٹ بنانے کے قابل بنائیں گے۔جنید انوار چوہدری نے نتیجہ اخذ کیا کہ گوادر افریقہ پر مرکوز میری ٹائم حب کی ترقی سے نئی سمندری گزرگاہیں پاکستان کے سمندری نقشے کو نئی شکل دے سکتی ہیں اور بحر ہند کے پورے خطے میں جامع ترقی کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔







