وفاقی وزیر بحری امور سیّد علی حیدر زیدی کی سی فیئرز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹ کے ساتھ تیسری سہ ماہی ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) سی فیئرز کو درپیش مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کو یقینی بنایا گیا ہے جس کی مثال 70 سال کی تاریخ میں نہیں ملتی، ان اقدامات کو سی فیئرز کمیونٹی کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر بحری امور سیّد علی حیدر زیدی نے جمعہ کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کراچی میں سی فیئرز اور رجسٹرڈ میننگ …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) سی فیئرز کو درپیش مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کو یقینی بنایا گیا ہے جس کی مثال 70 سال کی تاریخ میں نہیں ملتی، ان اقدامات کو سی فیئرز کمیونٹی کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر بحری امور سیّد علی حیدر زیدی نے جمعہ کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کراچی میں سی فیئرز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹ کے ساتھ تیسری سہ ماہی ملاقات کے دوران کہی۔ 2018ءمیں حلف اٹھانے کے بعد علی زیدی نے میری ٹائم افیئرز کے بارے میں شکایات کےلئے ہاٹ لائن قائم کی جس پر گذشتہ 70 سالوں سے سی فیئرز برادری کو درپیش مشکلات کے بارے میں شکایات موصول ہونا شروع ہوئیں۔ ان امور کے حل کو ترجیح دیتے ہوئے وزارت نے ان تمام بڑے معاملات کو حل کیا جن کا سامنا ہمارے سی فیئررز پاکستان اور بیرون ملک خدمت کے دوران کر رہے تھے۔ایک سب سے بڑا مسئلہ سائن آن/سائن آف تھا جو کسی سی فیئرر کو غیر ملکی جہاز میں شامل ہونے سے پہلے اس کی تعمیل کرنا پڑتی تھی۔ اس سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا تھا، بلکہ کچھ معاملات میں ملازمت کا موقع بھی ضائع ہوگیا۔ اسے ختم کردیا گیا ہے اور اب سی فیئررز کو آسانی سے روانہ ہونے کے لئے ہوائی اڈوں پر اپنی دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ ایک اور تشویش گورنمنٹ شپنگ آفس کراچی میں بدانتظامی تھی جسے حل کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بغیر کسی تاخیر کے سییمن سروس بک اور دیگر دستاویزات جاری ہو رہے ہیں۔ شپنگ آفس کی ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن رسائی جاری ہے جو دو ماہ میں شروع کر دی جائے گی۔ مذکورہ بالا کے علاوہ سمندری مسافروں کے لئے میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لئے،ڈاکٹروں کے بورڈ میں توسیع کردی گئی ہے اور اب کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی طبی سہولت موجود ہے۔ جہاں تک مشین ریڈ ایبل سیمن آئیڈینٹی کارڈز کا تعلق ہے تو یہ نظام نادرا اور کے پی ٹی کی مدد سے قائم کیا گیا تھاجو کارڈ جاری کر رہا ہے اور مستقل نظام تیار ہوتے سہولت کا مستقل آغاز کردیا جائے گا.جس کی توقع مئی 2020ءمیں کی جاسکتی ہے۔ اسکے فنڈز پہلے ہی جاری کردیئے گئے ہیں . نوجوان کیڈٹوں کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کےلئے وزارت روڈ میپ لے کر آئی ہے جس کی تفصیلات کو حتمی شکل ملتے ہی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ لیکن اس وقت تک نوجوان کیڈٹوں کے تجربے میں تنوع لانے کےلئے ان کو تینوں بندرگاہوں پر کام کرنے والے ڈریجرز پر مختص کیا جارہا ہے۔علی زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر، مرچنٹ جہازوں پر 1.6 ملین سمندری فرد کام کر رہے ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق فلپائن سے ہے جس نے 2018 میں6.1 بلین ڈالر حاصل کیے۔ ہمیں ریپ ٹاپزم کا خاتمہ کرکے اور ان کو مطلوبہ وسائل فراہم کرکے اپنی افرادی قوت کیلئے آسانی پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔تاکہ وہ عالمی منڈی پر مقابلہ کرسکیں ہم نے معاملات آہستہ آہستہ حل کرنا شروع کردیئے اور اب سوائے ایک دو معاملات کے باقی معاملات حل ہوچکے ہیں۔علی زیدی نے کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ پاکستانی افرادی قوت کسی بھی طرح دنیا سے کم نہیں. صحیح مواقع ملنے پر یہ دنیا میں ہمارا نام روشن کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔