وفاقی وزیر بحری امور کا پاکستان کی پہلی ’’رول آن/رول آف‘‘ کھیپ کے تحت 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں لے کر آنے والے جہاز کی آمد کا اعلان

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان کی پہلی ’رول آن/رول آف‘ (آر او آر او) کھیپ کے تحت 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) لے کر آنے والے جہاز ’ایم وی گرانڈے شنگھائی‘ کی آمد کا اعلان کیا۔

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان کی پہلی ’رول آن/رول آف‘ (آر او آر او) کھیپ کے تحت 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) لے کر آنے والے جہاز ’ایم وی گرانڈے شنگھائی‘ کی آمد کا اعلان کیا۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کو ایک بیان میں وزیر نے بتایا کہ 220 میٹر طویل آر او آر او جہاز کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ’کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ‘ (کے کی ٹی ایم ایل) ٹرمینل پر کامیابی سے لنگر انداز ہو گیا ہے۔

انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے بحری اور لاجسٹکس کے شعبوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی آمد کا عمل گزشتہ ماہ بحری امور سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کی آر او آر او کھیپوں کی منظوری کے بعد ممکن ہوا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جہاز کی کامیاب ہینڈلنگ اس بات کی عکاس ہے کہ بندرگاہ کا بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق خصوصی کارگو آپریشنز کو سنبھالنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ملک کی پہلی آر او آر او کھیپ نے عالمی صاف نقل و حرکت اور پائیدار ٹرانسپورٹ سپلائی چین میں پاکستان کے بتدریج انضمام کو بھی اجاگر کیا۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ روایتی کارگو جہازوں کے برعکس، آر او آر او جہازوں کو پہیوں والے کارگو کی نقل و حمل کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے گاڑیوں کو براہ راست جہاز پر اور باہر چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام کارگو ہینڈلنگ کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، آپریشنل حفاظت کو بڑھاتا ہے اور بندرگاہوں پر مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم وی کی کامیاب برتھنگ-گرانڈے شنگھائی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پورٹ آپریشنز کو جدید بنانے اور موثر ٹیکنالوجی پر مبنی لاجسٹکس کے ذریعے تجارت کو آسان بنانے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ وفاقی وزیر نے میری ٹائم سیکٹر کو مضبوط بنانے اور عالمی شپنگ نیٹ ورکس کے ساتھ پاکستان کے روابط کو بڑھانے کے لیے اقدامات کی حمایت کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں