وزارتِ قومی صحت اورلمز نیشنل اے آئی ہب کے درمیان شراکت داری

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے نیشنل اے آئی ہب نے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان کے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے جس میں بالخصوص ماں، نومولود اور بچوں کی صحت کے بہتر نتائج بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے نیشنل اے آئی ہب نے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان کے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے جس میں بالخصوص ماں، نومولود اور بچوں کی صحت کے بہتر نتائج بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ مفاہمتی یادداشتِ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تحقیق، جدت، شواہد کی تیاری، پالیسی سازی میں تعاون، اور استعداد کار میں اضافے کے لئے باہمی تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کے تحت وزارتِ قومی صحت اور نیشنل اے آئی ہب قومی ترجیحات کا تعین،مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کی تیاری اور جانچ میں تعاون کریں گے اور پاکستان کے صحت کے نظام میں اے آئی کے محفوظ اور مؤثر انضمام کو فروغ دیں گے۔معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے وفاقی سیکرٹری وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری محمد اسلم غوری، ڈائریکٹر جنرل (پاپولیشن) ڈاکٹر شبانہ سلیم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ڈاکٹر رشیدہ بتول، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر آئی سی ٹی محمد ایوب اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) ڈاکٹر بینش شریک ہوئے۔ لمز کی نمائندگی ڈاکٹر طارق جدون (پرووسٹ) اور ڈاکٹر آغا علی رضا ایسوسی ایٹ پروفیسر(شعبہ کمپیوٹر سائنس)نے کی۔

اس موقع پر نوید اکبر، کنسلٹنٹ(گیٹس فاؤنڈیشن) بھی موجود تھے۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری(وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری) محمد اسلم غوری نے کہا کہ یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ڈاکٹر طارق جدون نے کہا کہ یہ شراکت داری بین الشعبہ جاتی تحقیق کو عملی عوامی فائدے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، لمز مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس میں اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں زیادہ مضبوط، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ صحت کے نظام کی تشکیل اور ماؤں، نومولود بچوں کی صحت کے بہتر نتائج کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر خوش ہے۔

یہ شراکت داری مشترکہ تحقیق، تکنیکی تعاون، علم و تجربات کے تبادلے اور متعلقہ فریقین کی شمولیت کو فروغ دے گی جبکہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لئے پالیسیوں اور عملی حکمتِ عملی کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ حکومتی اداروں، جامعات، صحت کے اداروں، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کی مہارت کو یکجا کرتے ہوئے قومی استعداد کو مزید مضبوط بنائے گی۔پاکستان میں ڈیجیٹل صحت کے شعبے کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کے تناظر میں یہ یادداشتِ مفاہمت مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ مضبوط، مؤثر اور مساوی صحت کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے جس سے ملک بھر میں ماؤں، نومولود بچوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔