اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے بین الاقوامی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھائے، کشمیری عوام استصواب رائے کے حصول کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں جو کہ انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یو این سی آئی پی کی …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی انسانی حقوق کی سرگرم رہنما اور سابق آسٹریلوی سینیٹر مس لی رہیانونن سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے بین الاقوامی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھائے، کشمیری عوام استصواب رائے کے حصول کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں جو کہ انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یو این سی آئی پی کی قراردادوں کے تحت دیا گیا ہے، اس کے علاوہ حق خود ارادیت رائٹس کے بین الاقوامی بل کا مرکزی حصہ ہے۔ وہ انسانی حقوق کی سرگرم رہنما اور سابق آسٹریلوی سینیٹر مس لی رہیانونن سے بات چیت کر رہی تھیں جنہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران یہاں ان سے جمعہ کو ملاقات کی۔ اس موقع پر وزارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے انسانی حقوق خصوصاً انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وادی کشمیر کے معصوم لوگوں کے حقوق کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیر نے سابق آسٹریلوی سینیٹرپاکستان میں شہریوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کےلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا۔شیریں مزاری نے لی رہینا نونن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حق خود ارادیت کا سوال ہے جبکہ بین الاقوامی برادری بھی کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت کا حق دلانے کی ضامن ہے۔








