اسلام آباد۔10 اپریل(اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں استحکام ضروری ہے اور کشیدگی پاکستان اور انڈیا دونوں کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اس سے پورے خطہ کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں، عالمی برادری خطہ میں امن کےلئے بھارت کو سٹرٹیجک ڈائیلاگ پر آمادہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں سنٹر …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا جنوبی ایشیاءمیں سٹرٹیجک استحکام اور ابھرتے ہوئے چیلنجز بارے کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔10 اپریل(اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں استحکام ضروری ہے اور کشیدگی پاکستان اور انڈیا دونوں کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اس سے پورے خطہ کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں، عالمی برادری خطہ میں امن کےلئے بھارت کو سٹرٹیجک ڈائیلاگ پر آمادہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں سنٹر فار انٹرنیشنل سٹرٹیجک سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس جس کا عنوان ”جنوبی ایشیاءمیں سٹرٹیجک استحکام اور ابھرتے ہوئے چیلنجز“ تھا، میں کیا۔ کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت، ڈی جی سنٹر فار انٹرنیشنل سٹرٹیجک سٹڈیز اور بریگیڈیئر زاہد کاظمی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے آئے روز کی بلااشتعال فائرنگ اور حالیہ پلوامہ حملہ کے بعد بھی بھارتی جارحیت میں کوئی کمی نہیں آئی جو خطہ میں استحکام کےلئے مسلسل خطرہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھارت کو مسلسل امن کوششوں اور مذاکرات کےلئے دعوت دیتا ہے کیونکہ پاکستان جانتا ہے کہ کشیدگی بھارت یا پاکستان کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور خطہ میں سٹرٹیجک استحکام کےلئے باہمی اتفاق رائے سے مذاکرات کرنا بہت ضر وری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرت کے عمل کو مسلسل ہونا چاہئے جس کےلئے دونوں ممالک کی طرف سے ایک گروپ کو مختص کیا جانا چاہئے جو مذاکرات کے عمل کو بلا تعطل آگے بڑھائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پرجنوبی ایشیاءمیں سٹرٹیجک استحکام کےلئے سات نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا جس میں ہاٹ لائن کا قیام، میزائل حملوں میں کمی، میزائل کو ٹیسٹ کرنے سے پہلے نوٹیفیکیشن سسٹم ، جوہری ہتھاروں کی تنصیبات سے پہلے سالانہ فہرست کا تبادلہ سمیت دیگر کئی نکات شامل ہیں۔








