اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات محمد اعظم خان سواتی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منشیات کی صورتحال خصوصاً تعلیمی اداروں کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اس میٹنگ میں سیکرٹری، وزارت انسداد منشیات، ڈائریکٹر جنرل (اے این ایف)، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈائریکٹر جنرل (فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن)، ایچ ای سی کے نمائندے، نجی سکول ایسوسی ایشن کے …
وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات محمد اعظم خان سواتی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات محمد اعظم خان سواتی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منشیات کی صورتحال خصوصاً تعلیمی اداروں کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اس میٹنگ میں سیکرٹری، وزارت انسداد منشیات، ڈائریکٹر جنرل (اے این ایف)، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈائریکٹر جنرل (فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن)، ایچ ای سی کے نمائندے، نجی سکول ایسوسی ایشن کے نمائندے، چیئرمین سنی ٹرسٹ، چیئرپرسن کے کے اے ڈبلیو ایف اور سول سوسائٹی کی تنظیموںکے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر مجھے ملک کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے اور اپنے نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کا کام سونپ دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 99.9 فیصد منشیات پاکستان کو سمگلنگ کے ذریعہ افغانستان سے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی نارکوٹک فورس محدود وسائل اور اہلکاروں کے ساتھ منشیات سمگلروں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات اسمگلروں اور ڈیلرز کے خلاف اے این ایف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے این ایف نے گذشتہ ماہ 8300 ملین ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کیں جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ پاکستان منشیات کا دوسرا سب سے بڑا صارف بن رہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں نے ہمارے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا اہتمام ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (اینٹی نارکوٹکس فورس) اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس نے شرکا کو اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لئے وزارت انسداد منشیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ وزارت انسداد منشیات ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لئے ایک رابطہ کمیٹی بنائے گی۔شرکائ نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے لئے سفارشات دیں‘ تمام تعلیمی اداروں کوسموک فری زون قرار دیا جائے، مانیٹرنگ کے لئے تعلیمی اداروں میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں۔ تمام اداروں کو طلباءکی رہنمائی کے لئے معالج کی خدمات حاصل کرنا چاہئے۔ تعلیمی اداروں کے لئے ہیلتھ کیئر ایس او پی تیار کی جائے۔ طلباءاور اساتذہ کے لئے آگاہی پروگراموں کا اہتمام کیا جائے۔وفاقی وزیر محمداعظم خان سواتی نے تمام شرکاءسے اپیل کی کہ لوگوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے تعلیمی اداروں اور معاشرے سے منشیات کے لعنت کے خاتمے کے لئے سخت محنت کریں۔








