وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر محیط میری کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کردیا
وفاقی وزیر برائے بحری امور نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر محیط میری کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر محیط میری کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مجوزہ منصوبے پر بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ اس سٹیٹ میں میری کلچر اور ایکوا کلچر کے ساتھ ہیچریاں، تحقیق و جدت، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین اور تجارتی سہولیات کو ایک مربوط ترقیاتی فریم ورک کے تحت قائم کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ماسٹر پلان کے تحت سٹیٹ کو چار بڑے زونز میں تقسیم کیا جائے گا جن میں 30 ایکڑ پر میری کلچر زون، 20 ایکڑ پر ہیچری زون، 20 ایکڑ پر ایکوا ریسرچ پارک اور 20 ایکڑ پر کمرشل ڈسٹرکٹ شامل ہوگا۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور نے کہا کہ جدید میری کلچر نظام کی ترقی سے پاکستان کو زیادہ مالیت کی حامل ماہی گیری کی پیداوار بڑھانے، آبی حیاتیات کے بیج کی پیداوار بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیچری زون میں جدید آبی بیج کی پیداوار جبکہ ریسرچ پارک میں تحقیق، جدت اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مجوزہ سٹیٹ میں پروسیسنگ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کے علاوہ تجارتی و رہائشی سہولیات، پائیدار بنیادی ڈھانچہ اور گرین سپیسز بھی شامل ہوں گی۔ منصوبے کے بنیادی ڈھانچے میں اندرونی سڑکوں کا نیٹ ورک، بجلی اور قابل تجدید توانائی کی سہولیات، پانی کی فراہمی و ٹریٹمنٹ، گندے پانی کی صفائی، انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، سمارٹ سٹیٹ مینجمنٹ، سکیورٹی و نگرانی، گرین بیلٹس اور لینڈ سکیپنگ شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دینا ہے، جو ملک کی بلیو اکانومی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار بلیو اکانومی کے قیام اور ساحلی آبادیوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے جدید بحری انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔








