علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ریسرچ اینڈ پریکٹسز اِن ایجوکیشن کے موضوع پر نویں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ریسرچ اینڈ پریکٹسز اِن ایجوکیشن کے موضوع پر نویں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’ریسرچ اینڈ پریکٹسز اِن ایجوکیشن‘‘ کے موضوع پر نویں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ دو روزہ کانفرنس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم، محققین اور اساتذہ ، تحقیق، تدریس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالے اور تجربات پیش کر رہے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کا انحصار معیاری تعلیم، تحقیق، جدت، تخلیقی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر ہے، جامعات کو ایسا تعلیمی و تحقیقی نظام فروغ دینا ہوگا جو طلبہ میں سوال کرنے، تنقیدی و تخلیقی سوچ، تحقیق، مسئلہ حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں پیدا کرے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، اس لیے نظام تعلیم نوجوانوں کو محض ڈگری کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے علم، تحقیق، تخلیق، شعور اور خوداعتمادی کے ساتھ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنائے، تعلیمی نظام میں مشاہدہ، غوروفکر، تجزیہ، سوال اٹھانے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نوجوان قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم بچوں کی فکری نشوونما اور بہتر فہم میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم عالمی مسابقت کے لیے انگریزی، جدید علوم اور ٹیکنالوجی پر دسترس بھی ضروری ہے، حکومت نظام تعلیم اور نصاب کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے معیاری تعلیم کے فروغ میں اساتذہ کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے باصلاحیت اساتذہ تیار کرنا ہوں گے جو طلبہ میں علم حاصل کرنے کا شوق، تحقیق کا جذبہ، تخلیقی سوچ اور خوداعتمادی پیدا کرسکیں۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اور ان کی ٹیم کو کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی و تحقیقی سرگرمیاں تعلیمی معیار بہتر بنانے اور تحقیق و عملی تجربات کے درمیان فاصلے کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

وائس چانسلر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور مصنوعی ذہانت نے تعلیم، تدریس اور تحقیق کو نئی سمت دی ہے، اس لیے جامعات کو صرف تبدیلی کا مشاہدہ کرنے کے بجائے اس کا فعال حصہ بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی تعلیم تین بنیادی تصورات کنیکٹ، ٹیچ اور گروتھ کے گرد گھومتی ہے، ’’کنیکٹ‘‘ سے مراد طلبہ، اساتذہ اور محققین کو ملکی و عالمی علمی برادری سے جوڑنا، ’’ٹیچ‘‘ کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ معیاری تدریس کو فروغ دینا جبکہ ’’گروتھ‘‘ کے ذریعے مسلسل سیکھنے، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ آنے والے دور میں وہی تعلیمی ادارے مؤثر کردار ادا کریں گے جو علم کو ٹیکنالوجی، تحقیق کو عملی ضروریات اور انسان کو نئے مواقع سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔لانگ ووڈ یونیورسٹی امریکا کے پروفیسر ڈاکٹر آفتاب خان افتتاحی سیشن کے کلیدی مقرر تھے۔ کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر حنا نور اور کانفرنس کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر نوید سلطانہ نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ دو روزہ کانفرنس کے دوران پینل ڈسکشنز، متوازی سیشنز اور مختلف علمی و تحقیقی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم اور محققین تعلیم، تحقیق، تدریس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالے اور تجربات پیش کریں گے۔

مزید خبریں