اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے 19 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کی صدارت کی جس میں تمام صوبائی وزراء و متعلقہ سیکرٹریز، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور کینٹ اینڈ گیریژن سکولز نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے غیر رسمی تعلیم کے پراجیکٹس، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی 18 ویں ترمیم …
وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کی زیر صدارت 19 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا انعقاد،غیر رسمی تعلیم کے پراجیکٹس، بیسک ایجوکیشن، کمیونٹی سکولز اور این سی ایچ ڈی کی صوبوں کو منتقلی پر مشاورت کی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے 19 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کی صدارت کی جس میں تمام صوبائی وزراء و متعلقہ سیکرٹریز، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور کینٹ اینڈ گیریژن سکولز نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے غیر رسمی تعلیم کے پراجیکٹس، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو منتقلی پر مشاورت کی۔شفقت محمود نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے لہذا جو اساتذہ اور طلبہ جن صوبوں کے اندر ہیں صوبے ان کو اپنے ماتحت لیں اور 18 ویں ترمیم کا مکمل طور پر نفاذ اس عمل کا متقاضی ہے۔ اس پر تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر نے اپنی آراءپیش کیں، تاہم حتمی فیصلے اور لائحہ عمل کے لیے یہ ایجنڈا 6 اگست کو منعقد ہونے والی مشترکہ مفادات کونسل میں زیر بحث آئے گا۔ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ تمام صوبوں نے اتفاق رائے سے 15 ستمبر والے فیصلے کی تائید و توثیق کی تاکہ عیدالاضحیٰ اور ایام محرم کے اثرات کا جائزہ لے کر محتاط طریقے سے تعلیمی ادارے کھولے جائیں، یہ بھی طے پایا کہ تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جائیں، پہلے سینئر کلاسیں اور پھر جونیئر کلاسیں شروع کی جائیں، اس سلسلے میں وفاقی وزارت تعلیم نے ایس او پیز تیار کر کے تمام صوبوں کو بھجوا دی ہیں۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے فورم کو بتایا کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا امتحانات کی اجازت دینے کا فیصلہ بہت مثبت رہا اور اس سے وبا میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا جو بہت خوش آئندہ ہے۔ شفقت محمود نے 7 ستمبر کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے 20 ویں بین الصوبائی وزراءکانفرنس بلائی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے بین الصوبائی وزرائے تعلیم فورم کو یکساں تعلیمی نصاب کونسل کے فیصلوں کے بارے بھی آگاہ کیا جس میں اتفاق رائے سے طے پایا کہ پورے ملک میں یکساں تعلیمی نصاب رائج کر کے تعلیمی تفریق کا سدباب کیا جائے اور پانچویں کلاس تک صوبے وہ زبان ذریعہ تعلیم کے طور پر رائج کریں گے جس میں بچوں کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ وفاقی وزارت تعلیم تمام صوبوں اور ملکی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم کی مدد سے ماڈل ٹیکسٹ بک تیار کر رہی ہے جس کی تمام صوبے اور وفاقی اکائیاں اتباع کریں گی، تاہم اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ صوبے اور نجی تعلیمی ادارے اس میں کچھ اضافہ کر سکیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے آخر میں تمام شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بین ا لصوبائی تعلیمی فورم ان حالات میں نہایت موثر طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اس میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور مقصد تعلیم کے لیے اس فورم نے سب کویکجا کر دیا ہے۔








