وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے اسلامی ممالک کے لئے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیت کے مرکز (سیسریک) کی ڈائریکٹر جنرل زہرا زُمُرُت سلجوق سے اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی تعلیمی سربراہی اجلاس و نمائش کے موقع پر ملاقات کی۔

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے اسلامی ممالک کے لئے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیت کے مرکز (سیسریک) کی ڈائریکٹر جنرل زہرا زُمُرُت سلجوق سے اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی تعلیمی سربراہی اجلاس و نمائش کے موقع پر ملاقات کی۔ یہ اجلاس اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی)کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔ ملاقات میں او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا بالخصوص سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم، مہارتوں کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ اور زہرا زُمُرُت سلجوق نے ایک دوسرے کی خدمات اور کاوشوں کو سراہا اور او آئی سی ممالک میں اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لئے کردار کو قابلِ قدر قرار دیا۔ دونوں جانب سے مشترکہ مقاصد کو عملی سرمایہ کاری اور معاشی شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے لئے مضبوط ادارہ جاتی روابط استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے او آئی سی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کی مشترکہ معاشی طاقت، وسائل، منڈیاں اور انسانی سرمایہ باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری شراکت داریوں کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور سرحد پار سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور ٹیکنالوجی کی شراکت داریوں کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارہ جاتی تعاون او آئی سی ممالک کی منڈیوں میں سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ضابطہ جاتی طریقہ کار کو آسان بنانے، کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنے، کاروبار میں آسانی بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کو ہموار اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لئے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔قیصر احمد شیخ نے زور دیا کہ سرمایہ کاری کا فروغ انسانی وسائل، تعلیم اور مہارتوں کی ترقی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک کے درمیان تعاون کو روایتی تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، ٹیکنالوجی، جدت، ہنرمند افرادی قوت اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری تک وسعت دی جانی چاہئے۔بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی صنعتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک باہمی تجربات اور مہارتوں کے تبادلے، مشترکہ اقدامات اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ سے نمایاں فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے حکومتوں، سرمایہ کاری کے اداروں، جامعات، کاروباری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داریوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تعلیم اور مہارتوں کی ترقی کو سرمایہ کاروں اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

زہرا زُمُرُت سلجوق نے وفاقی وزیر کی جانب سے سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور بین الاقوامی روابط کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے اور ایسے شعبوں میں نئے امکانات تلاش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جن کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون او آئی سی ممالک کے درمیان مزید معاشی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری روابط، تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور استعدادِ کار میں اضافے کے لئے مشترکہ اقدامات کے وسیع امکانات بالخصوص نوجوانوں کے لئے مواقع پیدا کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لئےموجود ہیں ۔فریقین نے او آئی سی کے رکن ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مزید بڑھانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مضبوط کاروباری روابط اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، مشترکہ منصوبوں کا فروغ اور اسلامی ممالک کے درمیان سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی منتقلی کو تقویت دی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک سے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، وسیع منڈی، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل اور سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے مواقع او آئی سی ممالک کے سرمایہ کاروں کے لئے نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ضابطہ جاتی نظام میں بہتری، کاروباری سہولت کاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے ذریعے پاکستان کو ایک زیادہ پرکشش سرمایہ کاری منزل بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اور سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل نے ایک دوسرے کو اپنے متعلقہ دفاتر کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعاون کے حوالے سے بات چیت کو مزید آگے بڑھایا جا سکے اور بالخصوص سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی شراکت داری کے لئے ٹھوس شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور او آئی سی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری، تجارت، کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور معاشی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تاکہ اسلامی دنیا میں مشترکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے، پاکستان کو ایک پرکشش سرمایہ کاری منزل بنانے اور بین الاقوامی معاشی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

مزید خبریں