وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی کا ویبنار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 7 جون (اے پی پی) وزارت بحری امور پاکستان اور اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن نے مشترکہ طور پر غیرقانونی غیر منظم اور غیر مرتب شدہ ماہی گیری کے عالمی دن کے موقع پر ایک ویبنار کا اہتمام کیا۔ جس میں اٹلی کے ہیڈکوارٹر سے ماہرین ، سمندری امور کے عہدیداران اور وفاقی وزیر برائے سمندری امور سید علی حیدر زیدی نے شرکت کی۔ 106 …

اسلام آباد ۔ 7 جون (اے پی پی) وزارت بحری امور پاکستان اور اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن نے مشترکہ طور پر غیرقانونی غیر منظم اور غیر مرتب شدہ ماہی گیری کے عالمی دن کے موقع پر ایک ویبنار کا اہتمام کیا۔ جس میں اٹلی کے ہیڈکوارٹر سے ماہرین ، سمندری امور کے عہدیداران اور وفاقی وزیر برائے سمندری امور سید علی حیدر زیدی نے شرکت کی۔ 106 شرکاء نے ویبنار میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی جس میں آسٹریلیا ، جاپان ، جنوبی افریقہ ، فرانس ، برطانیہ ، کینیا ، ہندوستان ، تھائی لینڈ ، سری لنکا ، ایران ، ملائیشیا ، مالدیپ ، بنگلہ دیش ، سویڈن اور صومالیہ کے شرکاء رجسٹرڈ تھے۔ پاکستان اور ماہی گیری سے متعلق مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔صوبائی محکمہ فشریز ، این جی اوز ، یونیورسٹیز ، ریسرچ آرگنائزیشنز اور فشرمین سوسائٹیوں سمیت مقامی فشریز تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ ویبنار ماہی گیری سے متعلق علاقائی تناظر پر مبنی تھا اور اس کا مقصد غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور ان سے لڑنے کے لئے بنیاد فراہم کرنا تھا۔ وزارت سمندری امور ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے بہتر تعاون اور ہم آہنگی سے ماہی گیری کے شعبے کو ترقی دینے اور ماہی گیری کے شعبے کو بین الاقوامی معیار کو پورا کرنے کے لئے صوبائی حکومتوں کو رہنمائی کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی یو یوماہی گیری سے نمٹنے کے لئے تمام لازمی تقاضوں سے بخوبی واقف ہے اور ہم میرین کیپچر فشریز کے لئے ایک نیشنل پلان آف ایکشن تیار کرنے کے عمل میں ہیں۔ اس پروگرام میں آئی او ٹی سی ذمہ داریوں کی تعمیل سے متعلق تمام امور پر روشنی ڈالی گئی ، وزارت سمندری امور ملک میں سسٹین ایبل ماہی گیری کے حصول کے لئے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز 14 (ایس ڈی جی) کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے ایف اے او اور ایف ڈی سی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ایف اے او کے ماہرین کی جانب سے اس ویبنار کے دوران ہونے والی گفتگو نے ان شعبوں کو شامل کیا ہے جن کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور آنے والے میرین کیپچر فشریز کے لئے آنے والے نیشنل پلان آف ایکشن میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ اسے صرف رسمی گفتگو کے لئے نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس شعبے کے فائدہ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ علی زیدی نے کہا کہ یقین ہے کہ ہمارے ممالک میں ماہرین اور محنتی کارکنوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس میٹنگ سے رہنمائی حاصل کرکے ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔