وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام کاسپارکو کا دورہ خلائی ٹیکنالوجی اور سپارکو کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے سپارکو کے سائنسدانوں کی خدمات کو سراہا ہے، خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سپارکو کا دورہ کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر کو خلائی ٹیکنالوجی اور سپارکو کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے سپارکو کے سائنسدانوں کی خدمات کو سراہا ہے، خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سپارکو کا دورہ کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر کو خلائی ٹیکنالوجی اور سپارکو کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سپارکو نے نے صوبوں کو زراعت کے بارے میں درست معلومات فراہم کی ہیں۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ سپارکو نے پاکستان کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کو بہت بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کے حالیہ برسوں میں ، زراعت ، آبی وسائل کے انتظام ، زمینی استعمال کی نقشہ سازی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز سے دستیاب اعداد و شمار کا سب سے زیادہ مؤثر استعمال کیا گیا ہے۔بریفنگ کے دوران یہ ذکر کیا گیا کہ زراعت کے شعبے کو تکنیکی ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال، زرعی مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ سپارکو نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعہ فصلوں کی مانیٹرنگ کے نام سے ایک پروجیکٹ 2005ء سے 2017ء تک جاری رکھا۔اس منصوبے سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی تشخیص اور فصلوں کی انشورنس کے لئے سائنسی اقدام کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کو بتایا گیا کے زرعی یونیورسٹیوں اور صوبوں میں آر ایس/جی آئی ایس لیبز قائم ہیں۔ سپارکو نے فصلوں سے متعلق معلومات کا پورٹل بھی تیار کیا ہے۔سپارکو ٹڈی دل کی تباہی کی نقشہ سازی کررہا ہے۔ اس نے پیروال کے جنگل ، اوکاڑہ اور قلات میں ٹڈیوں سے پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔سپار کوخلائی تحقیق کا پاکستانی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کی بالائی فضاء اور خلائی تحقیق کے سلسلہ میں کراچی میں ستمبر 1961ء کو قائم کیا گیا۔ اس ادارے نے اب تک خلائی موسمیاتی راکٹ چھوڑنے کے علاوہ 1991ء میں پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ بھی چھوڑا۔ پہلا راکٹ راہبر اول 7 جون، 1962ء کو خلاء میں چھوڑا گیا تھا۔ 1988ء تک پاکستان کے اس مقتدر ادارے کے ذریعے 200 موسمیاتی سیارے خلاء میں چھوڑَ گئے۔ یہ سیارچے 20 سے 550 کلومیٹر تک چھوڑے گئے ہیں۔

مزید خبریں