اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ بارہویں پانچ سالہ منصوبہ میں اقتصادی استحکام، زراعت کی پیداواری صلاحیت و کاروبار میں اضافہ، صنعتوں کی ترقی اور برآمدات کو فروغ دینے، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر کی ترقی، مربوط انرجی پلاننگ، غربت میں کمی، پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول، انتظامی اصلاحات، کم ترقی یافتہ علاقوں کی بہتری …
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کا بارہویں پانچ سالہ منصوبہ کے مسودہ پر بریفنگ کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ بارہویں پانچ سالہ منصوبہ میں اقتصادی استحکام، زراعت کی پیداواری صلاحیت و کاروبار میں اضافہ، صنعتوں کی ترقی اور برآمدات کو فروغ دینے، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر کی ترقی، مربوط انرجی پلاننگ، غربت میں کمی، پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول، انتظامی اصلاحات، کم ترقی یافتہ علاقوں کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی پر توجہ دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اکنامک ایڈوائزری کونسل کو بارہویں پانچ سالہ منصوبہ کے مسودہ پر بریفنگ کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس و انڈسٹری عبدالرزاق داو¿د، اکنامک ایڈوائزری کونسل کے ممبران، سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن، سیکرٹری بی آئی ایس پی علی رضا بھٹہ، چیف اکنامسٹ اعجاز واسطی، ممبران پلاننگ کمیشن اور وزارت کے تمام شعبوں کے اعلی افسران بھی شریک تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پانچ سالہ منصوبہ پر موثر عملدرآمد کیلئے وزارت میں اس کا سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا جبکہ وزیراعظم سال میں دو دفعہ جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، ٹرانسپورٹ، ہاو¿سنگ، مواصلات، توانائی اور آبی شعبے سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بارہویں پانچ سالہ منصوبہ کے تحت برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی مانیٹرنگ کیلئے ایک میکنزم وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پلان معیشت کے تمام شعبہ جات کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ یقینی بنائے گا۔ مخدوم خسرو بخیتار نے کہا کہ حکومت تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کی بغیر اضافی اخراجات کے بروقت تکمیل کیلئے پر عزم ہے۔ پانچ سالہ منصوبہ کے تحت اوسط 5.4 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ کا کل حجم 11.750 ٹریلین روپے متوقع ہے جسمیں ایک ٹریلین روپے تک پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن نے کہا کہ منصوبہ کا مسودہ انتہائی عرق ریزی اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے مختلف ورکنگ گروپس بنائے گئے تھے جن کے اب تک 30 سے زائد سیشنز ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکنامک ایڈوائزری کونسل کی سفارشات شامل کرنے کے بعد منصوبہ کی قومی اقتصادی کونسل سے منظوری لی جائے گی۔







