وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزاکی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس کے بعد میڈیا

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے اور بیرونی ٹیموں کو اب پاکستان آنا چاہیئے،کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے اور بیرونی ٹیموں کو اب پاکستان آنا چاہیئے،کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئر مین آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے اجلاس کو بتایا کہ دس سال سے انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان میں نہیں ہوئی تھی،دس سال سے کسی اسٹیڈیم پرکوئی پیسہ خرچ نہیں ہواتھا،لاہور اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیمزکی حالت بہتر کرنے پر 2 ارب روپے لگے ہیں لگتا ہے ابھی مزید دو ارب لگانے پڑیں گے۔کرکٹ بورڈ تاریخ میں پہلی بار ہر کھلاڑی کو دو لاکھ دے رہا ہے جوکافی نہیں،صوبائی ایسوسی ایشنز بنائی گئی ہیں،کوئی ایسا صوبہ نہیں جہاں کرکٹ نہیں ہو رہی،ہمیں بہت بڑی سرمایہ کاری کرنی پڑ رہی ہے، براڈکاسٹنگ کے لیے ہمیں باہر سے لوگ لانے پڑ رہے ہیں ،ہمارا انفراسٹرکچر ٹھیک نہیں۔پی ٹی وی کے پاس براڈ کاسٹنگ کے جدید آلات ہی نہیں۔پی ایس ایل افتتاحی تقریب کے کنٹریکٹ کا حوالے سے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہم نے پاکستانی کمپنی کو کنٹرکٹ دیا تھا،انڈیا سے لوگ اس نے منگوائے۔پی ایس ایل میں ٹی وی کیمرہ مینوں کو میڈیا بکس میں آنے کی اجازت نہ ملنے کا چیئر مین نے چیئر مین پی سی بی کو نوٹس لینے کا کہا تو چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ مجھے کیمرا مینوں کو باہر نکالنے کا کوئی علم نہیں، وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ ڈاکٹرمہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعدپاکستان میں کرکٹ نہیں ہوئی، پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار ہے،ملک میں کرکٹ کو پرموٹ کرنے میں میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔ کمیٹی ارکان نے دریافت کیا کہ چیئرمین پی سی بی کی تنخواہ اور مراعات کیا ہیں؟پی سی بی حکام نے بتایا کہ پی سی بی چیئرمین کوئی تنخواہ نہیں لیتے، ایک کروڑ 22لاکھ چیئرمین پی سی بی کا استحقاق ہے ۔احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام اخراجات کی تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے پی سی بی کے افسران کی تنخواہوں سے متعلق ان کیمرا بریفنگ لینے کی درخواست کی۔ گل داد خان نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر باجوڑ میں اسپورٹس کمپلیکس کا اعلان کیا گیا،آج تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مارچ 2019 میں اپنی رپورٹ دے دی جس میںتجویز دی تھی کہ عملدرآمد کمیٹی بنائی جائے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ تمام سپورٹس بورڈ کے سنٹرز کا برا حال ہے،فیڈریشنز خود مختار ہیں،ان کو جوابدہ ہونا پڑیگا،بعد ازاںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اراکین کمیٹی کے تمام خدشات کو چیئر مین پی سی بی نے دور کیا اور تسلی بخش جوابات دیئے،پاکستان کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے اور بیرونی ٹیموں کو اب پاکستان آنا چاہیئے،کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ سکول اور کالج کرکٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے، پاکستان سپر لیگ پاکستان میں منعقد کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا،ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال پشاور میں پی ایس ایل کھیلا جائے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان سپر لیگ پوری طرح پاکستان میں لایا گیا،صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں دیگر سپورٹس کے لیے بھی کام کرنا ہوگا،ایشیاکپ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ تمام ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران کا معاملہ ہے،ایشیاکپ کی میٹنگ کرونا وائرس کی وجہ سے ایک مہینے کے لیے تاخیر کا شکار ہوگئی ہے،اگر بھارت کے ساتھ باہمی سیریز ہوتی تو میں ضرور زور دیتا کہ بھارت پاکستان آکر کھیلے،وسیم خان کو انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی طرف سے آفر تھی لیکن پاکستان کی محبت انہیں پاکستان کھینچ لائی،کرکٹ انٹرنیشنل گیم ہے۔ ہمارا مستقبل میں منصوبہ ہے کہ مضبوط ایسوسی ایشن بنائیں جن کا زور اپنے سٹیڈیم پر ہو، دنیا میں کوئی ایسا بورڈ نہیں جو اسٹیڈیم بھی چلائے،مستقبل میں اسٹیڈیم کی ذمہ داری ایسوسی ایشن کے سپرد کریں گے،جس صوبے کا گراﺅنڈ ہو، اسی کو اسکا فائدہ ہو۔