وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت اور سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی نے ملاقات کی اور اپنے حالیہ دورہ امریکا کے بعد تفصیلی بریفنگ دی جس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مستقبل کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔
وفاقی وزیر تجارت سے آر سی سی آئی کے وفد کی ملاقات
اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت اور سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی نے ملاقات کی اور اپنے حالیہ دورہ امریکا کے بعد تفصیلی بریفنگ دی جس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مستقبل کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے آر سی سی آئی وفد کی امریکی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متحرک رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوششیں پاکستان کی معاشی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز کاروباری مواقع کی نشاندہی، بین الاقوامی روابط کے فروغ اور برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے حکومتی اقدامات کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ منظم اور کاروبار پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پائیدار تجارتی ترقی اور صنعتی نمو حاصل کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران آر سی سی آئی وفد نے امریکی قانون سازوں، کاروباری رہنمائوں، چیمبرز آف کامرس اور معاشی ترقی کے اداروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے اہم نتائج سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات بالخصوص سٹیل، دوا سازی، طبی آلات، معدنیات، کان کنی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی سامنے آئی۔ وفد نے کیپیٹل ہل پر ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا جہاں دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر امریکی شراکت داروں نے مزید معاشی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی اور پالیسی میں تسلسل اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ آر سی سی آئی نمائندگان نے نیو یارک سٹی اکنامک ڈویلپمنٹ کارپوریشن، نیو یارک چیمبر آف کامرس اور نیو جرسی میں کاروباری نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا جہاں پاکستان کے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے حوالے سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی نژاد کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے کردار کو پاکستان کی کاروباری صلاحیت کو امریکا میں اجاگر کرنے کے لیے ایک مضبوط پل قرار دیا گیا۔
پریزنٹیشن کے مطابق امریکی فریق نے ریاستی سطح اور مخصوص شعبوں میں تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی جس سے عملی اور ہدفی معاشی شراکت داری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ صرف برآمدات ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور طویل مدتی صنعتی تعاون پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ آر سی سی آئی وفد نے وزارت تجارت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ امریکا کے دورے سے پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو پاکستان کے لیے ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔









