اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سےپاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) کے وفد نے جمعرات کو ملاقات کی۔ ملاقات میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور اس کی سہولت کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کی قیادت پیٹرن ان چیف عبداللطیف ملک اور سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف نے کی۔ انہوں …
وفاقی وزیر تجارت سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفدکی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سےپاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) کے وفد نے جمعرات کو ملاقات کی۔ ملاقات میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور اس کی سہولت کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کی قیادت پیٹرن ان چیف عبداللطیف ملک اور سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف نے کی۔
انہوں نے وفاقی وزیر کو قالین بنانے کے لیے درکار ضروری درمیانی اشیاء کی سپلائی میں خلل سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کو بین الاقوامی آرڈرز کی تکمیل میں دشواری کا سامنا ہے اور اس سے مارکیٹ شیئر اور زرمبادلہ کو خطرہ لاحق ہے۔وفد نے آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے اور سپلائی چین کو ہموار کرنے کے لیے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالین سمیت ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دینا وزارت تجارت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے شعبے کے روزگار کی فراہمی، بالخصوص دیہی علاقوں میں خواتین دستکاروں کی بااختیاری اور پاکستان کی روایتی دستکاری کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ سپلائی کے مسائل حل کرنے اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں گے، خاص طور پر شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایم ایس ایم ایز) پر توجہ مرکوز رہے گی۔ وفاقی وزیر نے سیکٹرل کونسلوں کے ماتحت منظم سیکریٹریٹس قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز کو ملک کے وسیع تر معاشی اور ترقیاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کر کے طویل مدتی ترقی اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جام کمال خان نے پی سی ایم ای اے کے مسائل کو فوری حل کرنےکی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو مضبوط کیا جائے گا، ایم ایس ایم ایز کی حمایت کی جائے گی اور ایک متنوع، مسابقتی، معیاری اور پائیدار برآمداتی معیشت کی تعمیر کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی۔








