وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمودکا قومی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، 5 سال سے 16 سال کے بچوں کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، وفاق کسی کی حدود و اختیارات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، تعلیم سے متعلق قومی چیلنجز کو حل کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، 5 سال سے 16 سال کے بچوں کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، وفاق کسی کی حدود و اختیارات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، تعلیم سے متعلق قومی چیلنجز کو حل کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز (آئی سیپس) کے زیر اہتمام پاکستان کو درپیش تعلیمی چیلنجز کے عنوان سے اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم میں ناانصافی ہے، ملک میں تین طرح کے نظام تعلیم چل رہے ہیں، 25 لاکھ بچے مدارس کا رخ کر رہے ہیں، ہم نے لٹریسی کے معاملات کا جائزہ لینا ہے، نظام تعلیم سے متعلق درپیش چیلنجز کو قومی پالیسی میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایک قومی نصاب بنا رہی ہے جس کا نفاذ مدارس پر بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے متعلق ایک مصدقہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے بھی طریقہ کار تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تعلیمی نظام میں بہتری کیلئے کوشاں ہیں، مدارس کے بچے قومی نصاب کے تحت آئندہ چار سالوں میں امتحانات کا حصہ بنیں گے، میٹرک، ایف اے کے امتحانات میں مدارس کے بچے حصہ لیں گے، مدارس کے بچوں کو اعتماد میں لینا بڑی کامیابی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن پالیسی میں اصلاحات کرنے جا رہے ہیں۔