موسم سرما میں روزانہ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا سینیٹ اجلاس می اظہار خیال

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ ملک میں گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، 2019ء میں گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، ایل این جی کی خریداری کا سب سے سستا معاہدہ موجودہ حکومت نے کیا ہے، نئے انرجی ٹرمینل ٹیک آر پے کی بنیاد پر نہیں لگائے جائیں گے، موسم سرما میں روزانہ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ ملک میں گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، 2019ء میں گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، ایل این جی کی خریداری کا سب سے سستا معاہدہ موجودہ حکومت نے کیا ہے، نئے انرجی ٹرمینل ٹیک آر پے کی بنیاد پر نہیں لگائے جائیں گے، موسم سرما میں روزانہ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر شیری رحمن اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 70 فیصد گیس ملک سے نکلتی ہے، 30 فیصد گیس درآمد کرنا پڑتی ہے، ایل این جی بہت مہنگی ہے اور اس کے مقابلے میں سسٹم گیس سستی ہے، سندھ سے 38 فیصد، بلوچستان سے 40 فیصد، خیبرپختونخوا سے 12 فیصد اور پنجاب سے 8 فیصد گیس نکلتی ہے،

سسٹم گیس کا ریٹ تمام صوبوں میں یکساں ہے، 20 فیصد ایل این جی کی خریداری کا معاہدہ چار ماہ پہلے کیا جاتا ہے، (ن) لیگ نے ایل این جی کا معاہدہ 13.4 فیصد برینٹ پر کیا تھا، ہماری حکومت نے یہ معاہدہ 10.2 فیصد برینٹ پر سستا کیا ہے، ہفتے میں تین دن گیس کی فراہمی کے حوالے سے خبریں درست نہیں ہیں، روزانہ ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران پر پابندیوں کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو رہی، نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر پیشرفت کے لئے روس کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے دور میں ٹیک آر پے کی بنیاد پر ایل این جی کے دو ٹرمینل لگائے گئے تھے جن کی وجہ سے ہمیں 8 کروڑ روپے یومیہ ادا کرنا پڑتے ہیں ، اب دو نئے ٹرمینل لگائے جا رہے ہیں، مٹسوبشی اور ایک لوکل کنسورشیم قطر گیس کے ساتھ مل کر یہ ایل این جی ٹرمینل لگائیں گے لیکن ان کے لئے ہمیں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑے گا،

ایل این جی کی خریداری کے لئے باقاعدہ اوپن ٹینڈر ہوتا ہے اور مسابقتی بولی کے ذریعے معاہدہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں گیس کا نیٹ ورک بہت زیادہ پھیل چکا ہے، 2010ء میں ایس این جی پی ایل یومیہ دو ہزار ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرتی تھی، اب یہ 800 ایم ایم سی ایف ڈی پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی پیداوار سب سے زیادہ سندھ میں کم ہو رہی ہے۔