اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجلی چوری میں ملوث افسران اور افراد کے خلاف بلاروک ٹوک کارروائی کرے، اجلاس میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی کنکشن 3 ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کھاد کے کارخانے فوری چلانے کے ساتھ ساتھ صارفین کےلئے …
وفاقی وزیر خزانہ، محصولات و اقتصادی امور اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجلی چوری میں ملوث افسران اور افراد کے خلاف بلاروک ٹوک کارروائی کرے، اجلاس میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی کنکشن 3 ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کھاد کے کارخانے فوری چلانے کے ساتھ ساتھ صارفین کےلئے بجلی کے پری پیڈ میٹر لگانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ، محصولات و اقتصادی امور اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ توانائی کے شعبہ کے واجبات وصولیوں کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان افراد، محکموں اور وزارتوں یا کسی بھی نجی ادارے کے بجلی کے میٹر مسلسل تین ماہ بل ادا نہ کرنے کی صورت میں کنکشن کاٹ دیئے جائیں گے۔ ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ ان کے بلوں کی ادائیگی پر انہیں پری پی©ڈ میٹرز فراہم کئے جائیں گے۔ اجلاس میں گردشی قرضوں کے حوالہ سے خصوصی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ گردشی قرضے 1188 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، 480 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے حوالہ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی آڈٹ رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ ترسیلی کمپنیوں (ڈسکوز) کا آپریشنل اور فنانشنل آڈٹ کرایا جائے۔ اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کابینہ کی منظوری کے بعد سب سے زیادہ خسارہ میں جانے والی چار ڈسکوز کا آڈٹ ایک ماہ اور مکمل شعبہ کا آڈٹ 2 ماہ میں مکمل کرے گا۔








