وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا اے سی سی اے پاکستان کے زیراہمتام تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ بھارت کے تجارت سے متعلق غیر مناسب اور غیر دانشمندانہ فیصلے سے پاکستان متاثر نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ خود بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا، حکومت گورننس میں بہتری لانے کے لئے سرکاری شعبہ میں اصلاحات لا رہی ہے جن پر عملدرآمد سے ملک پائیدار ترقی و خوشحالی کی راہ پر …

اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ بھارت کے تجارت سے متعلق غیر مناسب اور غیر دانشمندانہ فیصلے سے پاکستان متاثر نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ خود بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا، حکومت گورننس میں بہتری لانے کے لئے سرکاری شعبہ میں اصلاحات لا رہی ہے جن پر عملدرآمد سے ملک پائیدار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔ وہ جمعرات کو ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ اکاﺅنٹینٹس (اے سی سی اے) پاکستان کے زیراہمتام ”پاکستان لیڈر شپ کنورسیشن2019 “ سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹیز میں اضافہ کرنے کا فیصلہ غیر مناسب ہے، اس سے پاکستانی مصنوعات کی تجارت پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس کا بھارت کو خود نقصان ہوگا۔ وزیر خزانہ نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سیشنز باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہو رہے ہیں اور مختلف امور کے بارے میں اختلافات کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دو سیشنز گزشتہ ہفتے منعقد ہوئے ہیں جبکہ ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے طے ہے، ان اجلاسوں کے دوران اعدادوشمار کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کے باقاعدہ مشن کے امکانات کے بارے میں کہا کہ معاملات طے پا جانے کی صورت میں اس کا انعقاد ہو گا۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت گورننس میں بہتری لانے کے لئے سرکاری شعبہ میں اصلاحات لا رہی ہے جن پر عملدرآمد سے ملک پائیدار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صحیح آدمی کو صحیح جگہ پر لگانے کی اشد ضرورت ہے، جب تک ہم پروفیشنلز کو مکمل سہولیات اور مواقع فراہم نہیں کریں گے اس وقت تک ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہپاکستان باصلاحیت افرادی قوت سے مالامال ہے جن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاکر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نجی شعبہ میں پروفیشنلز کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کا بہتر موقع ملتا ہے اس لئے وہاں کارکردگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر کا ویژن بہت اہم ہوتا ہے تاکہ وہ مستقبل کی درست پیش بینی کرتے ہوئے اس کی مناسبت سے بروقت فیصلے کرسکے۔ انہوں نے اے سی سی اے پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیشہ ورانہ ماہرین کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے تاکہ مستقبل میں پروفیشنلز کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہوسکیں۔ قبل ازیں اے سی سی اے کے پریذیڈنٹ اور ڈائریکٹر نیشنل اکاﺅنٹنگ اینڈ آڈٹ ڈولوئٹ یو کے، رابرٹ سٹین ہاوس نے اہم ترقیاتی حکمت عملیوں اور کاروباری ماحول کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے سی سی اے نے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جو ملک میں کاروبار اور اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ان میں ریگولیشنز میں بہتری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال، کاروبار میں آسانی کے لئے گلوبلائزیشن اور نوجوانوں کی شمولیت سے عوامی مفاد کو بڑھانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت صلاحیت اور مواقع موجود ہیں تاہم کچھ مسائل بھی درپیش ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کا مستقبل بہت روشن ہے، اگرچہ چیلنجز موجود ہیں تاہم ملک کو پائیدار ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Leave a Reply