وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اجلاس، رائٹ سائزنگ کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ، حکومتی اخراجات اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے پر زور

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اجلاس، رائٹ سائزنگ کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ، حکومتی اخراجات اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے پر زور

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں جاری رائٹ سائزنگ عمل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور منظور شدہ سفارشات پر عملدرآمد تیز کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک جو رائٹ سائزنگ سے متعلق ازسرنو تشکیل شدہ ذیلی کمیٹی کے کنوینر ہیں، بھی موجود تھے۔اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں پر مشتمل رائٹ سائزنگ کے عمل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے سے چوتھے مرحلے تک کابینہ کی منظوری کے بعد بڑی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ ان شعبوں میں فالو اپ کا عمل جاری ہے جہاں سفارشات پیش کی جا چکی ہیں۔ پانچویں اور چھٹے مرحلے سے متعلق سفارشات بھی تیار کرکے متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں جبکہ ساتویں اور آٹھویں مرحلے پر کام جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے زور دیا کہ رائٹ سائزنگ کے عمل کو مزید فیصلہ کن انداز میں عملدرآمد کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور حکومتی امور کی استعداد بڑھانا ہے جس میں ڈیجیٹلائزیشن، وسائل کے بہتر استعمال اور فرائض و ذمہ داریوں کو موثر انداز میں منظم کرنا شامل ہے۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ مستقل نوعیت کی بچت کی مقدار کا واضح تعین کیا جائے اور منظور شدہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے مالی اثرات کو بجٹ اور درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک میں مکمل طور پر شامل کیا جائے۔کمیٹی نے رائٹ سائزنگ کے وسیع تر طریقہ کار پر بھی غور کیا جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے انجام دیئے جانے والے فرائض کا جائزہ، ادارہ جاتی انتظامات، اختیارات کی منتقلی اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں کام کرنے کے امکانات کا جائزہ شامل ہے۔

کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتی وسائل کو بنیادی اور ضروری ذمہ داریوں پر مرکوز رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو مختصر، موثر اور عوامی خدمات کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔اجلاس میں اداروں کے ڈھانچے، فرائض اور افرادی قوت سے متعلق فیصلوں میں معاونت کے لیے ورک لوڈ اور سرگرمیوں کے تجزیے کی ضرورت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ رائٹ سائزنگ کی کامیابی کا حتمی پیمانہ صرف حکومتی حجم میں کمی نہیں بلکہ کارکردگی، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے عملدرآمد کے لیے توجہ مرکوز اور مقررہ مدت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے رائٹ سائزنگ سلمان احمد کی مشاورت سے انہوں نے واضح ایکشن پلان مرتب کرنے کی تجویز دی جس میں منظور شدہ سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے واضح ٹائم لائنز اور ذمہ داریاں متعین کی جائیں۔وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے ایجنڈے پر پیش رفت برقرار رکھی جائے، منظور شدہ اقدامات پر بروقت عملدرآمد اور قریبی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد حکومتی کارکردگی، مالیاتی نظم و نسق، وسائل کے موثر استعمال اور عوامی خدمات کی فراہمی میں پائیدار بہتری لانا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے رائٹ سائزنگ، سیکریٹری کابینہ ڈویژن، سیکریٹری پاور ڈویژن، سیکریٹری پارلیمانی امور اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔