وفاقی وزیر خسرو بختیارکی وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرشماریات ،منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات خسرو بختیار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 5ماہ کے دوران افراط زر کی شرح گذشتہ تین حکومتوں کی اتنی ہی مدت کے تناسب سے کم ہے،17ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی والوں پر افراط زرمیں اضافے کا اثر نہیں پڑے گا ،کم آمدن والے لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ماہانہ …

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرشماریات ،منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات خسرو بختیار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 5ماہ کے دوران افراط زر کی شرح گذشتہ تین حکومتوں کی اتنی ہی مدت کے تناسب سے کم ہے،17ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی والوں پر افراط زرمیں اضافے کا اثر نہیں پڑے گا ،کم آمدن والے لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ماہانہ قسط میں افراط زر کی شرح میں اضافہ کے تنا سب سے اضافہ کیا جائے گا،پیپلز پارٹی دور حکومت میں افراط زر میں11.2فیصد ،مسلم لیگ (ن) دور حکومت میں 9.1فیصد اضافہ ہوا ہے ،موجودہ حکومت کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر کی شرح .4فیصد اضافہ ہوا ہے ،رواں مالی سال کے اختتام تک یہ اس میں بہت کم اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو مربوط پرائس میکنزم لانے کی ہدایت دی ہے جو قیمیتیں مقرر ہیں وہ ہی قیمتیں عام بازاروں میں بھی ہونی چاہیں ،اس کے لئے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی ۔وہ جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین اور سیکرٹری شماریات ڈویژن کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر شماریات خسرو بختیار نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں افراط زر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے کہ اس وقت ملک میں افراط زر کیا ہے اور سابقہ حکومتوں کی اس مدت کے دوران افراط زر میں کتنا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف شماریات 1999سے اب تک افراط زر کے اعداد و شمار ہفتہ وار ،ماہانہ اور سالانہ جاری کرنے والا مصدقہ ادارہ ہے اور عالمی مالیاتی ادارے بھی اسی اعداد و شمار کو تسلیم کرتے ہیں اور حکومتیں اپنی پالیسیاں بھی اسی اعداد و شمار کو مد نظر رکھ کر بناتیں رہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے مہنگائی کے بیانیے میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، افراط زر کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2008میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آغاز پر افراط زر 14.1تھی اور اس حکومت کی مدت مکمل کرنے کے بعد افراط زر 25.3فیصد تک پہنچ گئی اس طرح اس دور میں افراط زر میں 11.2فیصد اضافہ ہوا ہے ، 2013میں مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی تو افراط زر تھی،پانچ سال بعد افراط زر 9.1تک پہنچ گئی ،پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو افراط زر 5.8تھی اور پہلے پانچ ماہ کے بعد دسمبر کے اختتام پر افراط زر 6.2تک پہنچی ہے،اس مدت میںافراط زر میں صرف 0.4فیصد اضافہ ہوا ہے ،کنزیومر پرائس انڈیکس(سی پی آئی ) میں 483اجناس شامل ہیں جس کا جائزہ لیا جاتا ہے اس طرح 2017میں افراط زر 4.57،2018میں افراط زر 6.17تھیں ،موجودہ حکومت کی پالیسیز کی بدولت افراط زر میں اضافے کا اثر غریب لوگوں پر نہیں پڑے گا ،آمدن کے پانچ مختلف گروپس بنائے گئے ہیں جس میں 17ہزار روپے ماہانہ آمدن ،26ہزار روپے ماہانہ آمدن ،39ہزار ماہانہ آمدن ، 77ہزار روپے ماہانہ آمدن اور 77ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن کے گروپ شامل ہیں ، اس تمام گروپس میں سے پہلے گروپ میں افراط زر کا معمولی سے اثر ہورہا ہے جبکہ اسکے بعد زائد آمدن والے گروپس میں کچھ اضافہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پانچ ماہ کے دوران آلو کی قیمت ،آٹے کی قیمت میں اضافہ ،ٹماٹر ، آٹے ،پیاز اور دودھ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گرانفروشی کی روک تھام کے لئے کچھ اقدامات ضرور اٹھانے ہونگے تا کہ جو قیمیتیں ہمیں فراہم کی جاتیں ہیں وہ عملی طور پر بھی لاگو ہوں ،وزیراعظم نے اس تناظر میں کیمونیکشن سٹریٹجی بنانے کی ہدایت دی ہے تا کہ قیتمیوں میں استحکام کو یقینی بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مربوط معاشی پلان کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ خزانے کے ساتھ اور کیا دشمنی ہوسکتی تھی کہ 55ارب کی حد مقرر ہونے کے باوجود سابقہ حکومت نے آخری مہینے میں 2کھرب مالیت کے منصوبے شروع کیے ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ دور حکومت کی طرح لاہور میں ڈویلپمنٹ فی کس ایک لاکھ ورپے اور راجن پور میں فی کیس تین ہزار روپے کرنے والے پالیسی نہہیں اپنائیں گے ، حکومت تمام صوبوں کے لئے متوزان ڈویلپمنٹ پلان لانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے ، تاریخ میں کسی بھی اگلی حکومت کے لئے اتنا بڑا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ نہیں تھا اس کے باوجود بھی عالمی اداروں کی شرائط کو ایک طرف رکھ کر اپنے طور پر ذخائر اکٹھے کر رہے ہیں ،ہماری ترجیح ہے کہ پانچ سالہ پلان میں تمام شعبوں کو ایک ساتھ لیکر چلیں ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں پہلی مرتبہ زراعت ،انسانی وسائل کی ترقی اور انڈسٹری کو شامل کیا گیا ہے۔