وفاقی وزیر داخلہ کا دورہ نادرا ہیڈکوارٹرز ، غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی اور ڈیٹا کی صفائی کا حکم

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ دورے کے دوران چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد منیر افسر نے وزیر داخلہ کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی بارے بریفنگ دی۔

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ دورے کے دوران چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد منیر افسر نے وزیر داخلہ کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی بارے بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور نادرا کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے گزشتہ دو برسوں کے دوران نادرا کی خدمات میں آنے والی نمایاں بہتری کو سراہتے ہوئے عوامی سہولت کے لئے مزید جدید اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر داخلہ نے نادرا کو ہدایت کی کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے عمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔ انہوں نے بالخصوص اس بات پر زور دیا کہ جن غیر ملکیوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شہریت حاصل کر رکھی ہے ان کی فوری شناخت یقینی بنائی جائے اور انہیں نیشنل ڈیٹا بیس سے فی الفور نکال باہر کیا جائے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے پیش نظر قومی ڈیٹا بیس کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔عوامی سہولیات بارے محسن نقوی نے نادرا کے دفاتر کے لئے ایک نئے وژن کا اعلان کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بڑے شہروں میں نادرا کے سٹیٹ آف دی آرٹ دفاتر کرائے کی عمارتوں کے بجائے اپنی ملکیتی جگہوں پر تعمیر کئے جائیں اور اس سلسلے میں فوری طور پر ایک جامع ماسٹر پلان تیار کر کے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ شہریوں کے شناختی کارڈ سے متعلق مسائل کے فوری حل کے لئے 30 دن کی قطعی مدت مقرر کر دی گئی تاکہ عوام کو طویل انتظار کی زحمت سے بچایا جا سکے۔

بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ کو بتایا گیا کہ نادرا نے ڈیٹا کی درستگی کے لئے لاکھوں فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کر دیے ہیں جبکہ پی ٹی اے کے تعاون سے ایسے افراد کے نام پر جاری سم کارڈز کو بھی بلاک کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بائیومیٹرک نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے اب چہرے کی تصویر سے تصدیق کے نظام پر کام ہو رہا ہے جس کے لئے دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے ان تمام اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارتی سطح پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔