وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی سہالہ میں میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈرونز کے استعمال سے اگلے چند سال میں زراعت سے لیکر پولیس پیٹرولنگ اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کردینگے، بہت جلد ڈرون پالیسی وضع کی جائے گی۔جمعہ کو سہالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ پاکستان ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے ہے …

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈرونز کے استعمال سے اگلے چند سال میں زراعت سے لیکر پولیس پیٹرولنگ اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کردینگے، بہت جلد ڈرون پالیسی وضع کی جائے گی۔جمعہ کو سہالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ پاکستان ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے ہے لیکن ہم نے کم عرصہ میں میڈ ان پاکستان ڈرونز اور دیگر ضروری طبی آلات و مصنوعات ملکی سطح پر تیار کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پچیس ڈرونز آسانی سے دس سے بیس ایکڑ اراضی پر سپرے کر سکتے ہیں۔اگلے تین سے پانچ سالوں میں زراعت اور دیگر شعبوں میں ڈرونز کا استعمال ناگزیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈ ان پاکستان ڈرونز بنانے شروع کر دیئے ہیں، ان ڈرونز سے سیڈنگ اور سپرے ہوگا ۔اس کے علاوہ ٹڈی دل کے خلاف ڈرونز ہر اول دستہ ہونگے جبکہ اسلام آباد پولیس ، موٹروے پرنگرانی اورکراچی میں سٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کیلئے بھی ڈرونز کے استعمال کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ این آر ٹی سی کو پہلے ہی ڈرونز کی تیاری پر توجہ دینے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ٹڈی دل پر قابو پانے کیلئے کھیتوں میں 30 ڈرونز سے سپرے کیا جائیگا کیونکہ بڑے جہازوں سے کھیتوں میں سپرے ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کرونا وبا سے پہلے ہم پاکستان میں کسی قسم کے آلات مکمل طور پر خود تیار نہیں کرسکتے تھے لیکن اب ہم کرونا وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے 99فیصد طبی آلات و مصنوعات ملکی سطح پر تیار کرر ہے ہیں۔ہم نہ صرف مقامی ضرورت پورا کر رہے ہیں بلکہ ہم یہ مصنوعات بڑے پیمانے پر برآمد بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کیسوں میں کمی کے بعد صحت،تجارت اور صنعتوں کے متعلقہ وزراءسے بات کرینگے کہ وہ این 95 ماسک اور پی پی ای کے برآمد پر پابندی اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اگلے تین سے پانچ سال کے دوران تین ارب ڈالر مالیت کی درآمدات کو ریپلیس کرنیکا ہدف مقرر کیا ہے۔

مزید خبریں