اسلام آباد ۔ 16 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کے بروقت اور موثر اقدامات کی بدولت پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال دوسرے ممالک سے بہت بہتر ہے اس پر اپوزیشن کو حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی نہیں ہے اسلئے حکومت پر تنقید کر رہی ہیں، اپوزیشن نے حکومت …
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کے بروقت اور موثر اقدامات کی بدولت پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال دوسرے ممالک سے بہت بہتر ہے اس پر اپوزیشن کو حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی نہیں ہے اسلئے حکومت پر تنقید کر رہی ہیں، اپوزیشن نے حکومت پر تنقید ہی کرنی تھی تو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی، یہ کام تو وہ پریس کانفرنسز کے ذریعے بھی کر رہی تھیں، عوام کو کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، یہ جسے بھی ہوتا ہے اس کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے، ہجوم والی جگہ پر لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اسلئے میں پارلیمنٹ کے ورچوئل سیشن کے حق میں تھا لیکن اپوزیشن نہ مانی، ورچوئل سیشن میں کوئی مسئلہ نہیں ہے سارے کام ہو سکتے ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ دنیا کی پانچ بڑی فارما کمپنیاں ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن وہ کہہ رہی ہیں کہ اگلے سال سمتبر تک ویکسین آنا مشکل ہے اسلئے ہمیں پارلیمنٹ کے اجلاس کیلئے ورچوئل ٹیکنالوجی کو استعمال میں لانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جنوری میں کہا تھا کہ کورونا سے متعلق پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے لیکن نہیں کی گئی، ابتدائی طور پر ہمیں چاہیے تھا کہ پاکستان اور بیرون ممالک سے ماہرین کو بلاتے جو وائرس سے متعلق ہماری بہتر رہنمائی کرتے، ابھی تک بڑی تعداد میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ یہ وائرس کیسے شروع ہوا، کہاں سے آیا اور اس سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی تدابیر کیا ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے اضلاع سے اختیارات واپس لے لئے، لوکل گورنمنٹ سسٹم زیادہ موثر ہوتا ہے اسلئے صوبوں کو چاہیے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں تاکہ ترقیاتی کام بہتر طریقے سے ہو سکیں، لوکل گورنمنٹ سسٹم ہوتا تو حکومت کو ٹائیگر ریلیف فورس تشکیل دینے کی ضرورت نہ ہوتی، اب فورس ملک بھر میں منتخب پارلیمینٹیرینز کی رہنمائی میں کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو علم نہیں کہا کہ وباءکب تک چلے گی تو کیا اتنے عرصے تک لاک ڈاﺅن برقرار رکھتے، اپوزیشن کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی نہیں ہے اسلئے حکومت پر تنقید کر رہی ہے، حکومت وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد صوبوں کی مشاورت سے فیصلے کر رہی ہی۔







