وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ کا سیلابی علاقوں کا دورہ، بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا

چنیوٹ۔ 30 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے چنیوٹ کے دور دراز اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقے چنیوٹ شہر سے تقریباً 45 منٹ کی دوری …

چنیوٹ۔ 30 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے چنیوٹ کے دور دراز اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقے چنیوٹ شہر سے تقریباً 45 منٹ کی دوری پر واقع ہیں اور ابھی حال ہی میں تحصیل کی حدود میں شامل کیے گئے ہیں، اس لیے یہاں بنیادی سہولیات کی کمی زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دور دراز دیہاتوں میں میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ مفت علاج معالجے سے مستفید ہو رہے ہیں، تاہم یہاں ہسپتال اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے باعث لوگوں کو علاج کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے، لیکن آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے کی وجہ سے مزید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی پرچیزنگ پاور اور معیارِ زندگی بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت و تعلیم صوبائی محکموں کے دائرہ اختیار میں ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کو بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک بھر میں بنیادی سہولیات عوام تک پہنچ سکیں۔ضمنی انتخابات سے متعلق سوال پر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے تمام نشستوں پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے جو عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی عوام کی بہت سی ضروریات پوری کرنا باقی ہیں اور حکومت مسلسل ان پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں معیارِ زندگی کم ہے، لہٰذا ہمیں مشترکہ کوششوں سے معیشت کو بہتر سے بہتر بنانا ہوگا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ موجودہ جی ڈی پی شرح نمو ساڑھے تین فیصد سے بڑھا کر کم از کم چھ فیصد تک پہنچائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ "اڑانِ قرآن” پروگرام کے تحت آئندہ دس برسوں میں ملکی معیشت کو 400 ارب ڈالر سے ایک ہزار ارب ڈالر تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ چارٹر آف اکانومی پر متفق ہوں تاکہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششیں کی جا سکیں۔معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا مگر وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت کے لیے ذاتی کوششیں کیں اور اب ملکی معیشت میں بہتری آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور دنیا خاص طور پر پاکستان کے ریر منرلز (نادر معدنیات) میں گہری دلچسپی لے رہی ہے جن کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری میں واضح اضافہ متوقع ہے، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ابھی تک سرمایہ کاری کے وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے جس کی توقع ہے، مگر کوششیں تیز کی جارہی ہیں۔انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جاسکے۔

مزید خبریں