اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان سے انٹرنیشنل ویٹ اینڈ میز امپرومنٹ سینٹر (سیمٹ) کے ڈائریکٹر جنرل مارٹن کروف نے یہاں ملاقات کی۔ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر کو سمٹ کے آئندہ 5 سالہ لائحہ عمل کا خاکہ پیش کیا گیا۔ پاکستان میں زرعی تحقیق کے شعبہ میں ممکنہ معاونت اور تدابیر کا بھی …
وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان سے انٹرنیشنل ویٹ اینڈ میز امپرومنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل مارٹن کروف کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان سے انٹرنیشنل ویٹ اینڈ میز امپرومنٹ سینٹر (سیمٹ) کے ڈائریکٹر جنرل مارٹن کروف نے یہاں ملاقات کی۔ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر کو سمٹ کے آئندہ 5 سالہ لائحہ عمل کا خاکہ پیش کیا گیا۔ پاکستان میں زرعی تحقیق کے شعبہ میں ممکنہ معاونت اور تدابیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مارٹن کروف نے کہا کہ ایگریکلچر انوویشن پروگرام ( اے آئی پی) یو ایس ایڈ کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا جس کے تحت زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمٹ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس نے چاول، مکئی اور گندم میں قابل قدر تحقیق میں نمایاںکردار ادا کیا۔ یہ تنظیم ایک بین الاقوامی کنسورشیم جو زراعت کے مختلف پہلوﺅں پر کام کر رہی ہے اس کا بھی ایک اہم حصہ ہے، حکومت پاکستان نے اس کنسورشیم سے منسلک ہونے کی درخواست پر ابھی عملدرآمد کرنا ہے اور اس سے وابستہ ہو کر زرعی ترقی خصوصاً مویشی لائیو سٹاک کے شعبہ میں تحقیقات کو فروغ دینا ہے۔ سیمٹ نے1761ءسے سینکٹروں پاکستانی زرعی سائنسدانوں کو تربیت دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان نے سیمٹ کے وفد کو خوش آمدید کیا اور پاکستانی زراعت کی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت کی ترقی و ترویج کےلئے ہر ممکنہ قدم اٹھانے کا وعدہ کر چکی ہے اور بالخصوص زرعی تحقیق کو جدید تقاضوںسے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دور میں ہماری خصوصی توجہ ملک میں غذائی خود کفالت اور زیرو ہنگر کا سنگ میل عبور کرنے پر مرتکز ہے اور ہم مستقبل میں سیمٹ کی زیر نگرانی زرعی منصوبوں کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہم سیمٹ کے ساتھ اشتراک کرکے ممکنہ ڈونرز تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ سیمٹ کہ ہمہ جہت تحقیقی پلیٹ فارم کی بدولت زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل گندم اور مکئی کی اقسام حاصل کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ مکئی کے جرم پلازمہ کی رسائی بھی بلاروک ٹوک دستیاب ہے جس کے تحت نئی اقسام پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ محبوب سلطان نے کہا کہ سیمٹ کے تعاون سے اے آئی پی کے دوسرے مرحلہ کے آغاز میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر محبوب سلطان نے کہا کہ زراعت کےلئے کارگر زرعی مشینوں اور دیگر آلات کا استعمال بروقت فصلوں کی کٹائی و بوائی کےلئَے نہایت اہمیت کا حامل ہے، ان زرعی مشینوں کے فروغ اور کسانوں تک ان کی رسائی پاکستان میں زرعی مشینوں کے استعمال اور فروغ کا باعث بنے گی۔ ڈائریکٹر جنرل کے دورہ کے موقع پر اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ پاکستان میں زرعی تحقیقاتی سینٹر میں بورلاگ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائَے، مزید بورلاک انوویٹو انڈورسمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ مالی معاونت کی ترسیل اور اے آئی پی کے تحت مختلف پراجیکٹس کو قابل عمل بنایا جا سکے۔







