اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام نے محرم الحرام کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ایس او پیز پر عملدرآمد کی ضرورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ پیر کو وزارت مذہبی امور میں وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں تفصیلی غوروخوض کے …
وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت اجلاس، محرم الحرام کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کی ضرورت برقرار رکھنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام نے محرم الحرام کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ایس او پیز پر عملدرآمد کی ضرورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ پیر کو وزارت مذہبی امور میں وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں تفصیلی غوروخوض کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت یہ طے پایا کہ تمام مکاتب فکر اپنے درمیان محبت، رواداری اور افہام و تفہیم کی فضاءقائم کرنے کی خلوص دل سے کوشش کریں گے، دوسرے مسالک کے اکابین کا احترام کریں گے، نیز ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین اور تنقیص سے اجتناب کریں گے، علماءکرام، خطباءاور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں اور ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے پرہیز کریں جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو سکتی ہو، مسلکی تنازعات کو باہم مشاورت، افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں طے کریں گے، عوامی پلیٹ فارم سے اپنے مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔ امہات المومنین، صحابہ کرامؓ، اہل بیت اطہار، اولیائے کرام، تابعین و تبع تابعین اور تمام اکابرین امت کے ادب و احترام کو ملحوظ نظر رکھا جائے گا اور ان میں سے کسی کو بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، قومی، ملی اور ملکی حالات و معاملات میں تمام مکاتب فکر کے علماءکرام متفق و متحد رہیں گے، علماءکرام اور خطباءواقعہ کربلا کے تناظر میں کشمیریوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کریں، ان سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ ان پر ہونے والے ظلم و جبر کو دنیا تک پہنچائیں۔ محرم الحرام کے جلوسوں، مجالس اور تقریبات میں حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاﺅ سے بچا جا سکے۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اس طرح کے اجلاس صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی منعقد کئے جائیں تاکہ پورے ملک میں محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی کی فضاءبرقرار رہے اور ساتھ ساتھ کورونا وائرس کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق محرم کے دوران لائسنس یافتہ اور روایتی جلوس کو احتیاطی تدابیر ایس او پیز کے ساتھ اجازت ہو گی، جلوس میں ہینڈ سینیٹائزر اور ماسک لگانا ضروری ہو گا، جلوس میں افراد کے مابین مناسب فاصلے کو برقرار رکھا جائے گا، پانی پینے پلانے کے دوران مشترکہ برتن کے استعمال سے گریز کیا جائے گا، رضاکار سکاﺅٹس کے ذریعے جلوسوں کے شرکاءسے ہدایات پر عملدرآمد کرایا جائے، شرکاءکی تعداد مناسب رکھی جائے، وقت کو محدود کیا جائے، عمر رسیدہ اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو جلوس میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے، جلوس کو تنگ اور محصور مقامات پر رکنے نہ دیا جائے، جہاں بھی رکنے کی اجازت دی جائے وہ نہ صرف کھلی جگہ ہو بلکہ مصنوعی طریقہ سے ہوا کو سرکولیٹ بھی کیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق مجالس میں فاصلے کا خیال رکھا جائے، امام بارگاہ میں لوگوں کے بیٹھنے کیلئے نشان لگائے جائیں، ہر شخص ماسک پہن کر آئے، ماسک کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، امام بارگاہ کی انتظامیہ داخلی راستوں کے باہر ماسک فراہم کر سکتی ہے، قالین کو اٹھا کر فرش پر اجتماعات منعقد کئے جائیں، امام بارگاہ سے باہر کی جگہ پر جراثیم سے پاک چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہے، اگر قالین ہو تو روزانہ ان پر کلورین سپرے کیا جائے، گھروں میں مجالس کے انعقاد کی صورت میں بھی ایس او پیز کا خیال رکھا جائے، کورونا کی وجہ سے طویل مجالس کے انعقاد سے اجتناب کیا جائے، مجالس کو مقررہ وقت پر ہی شروع اور ختم کیا جائے گا، عمر رسیدہ افراد کو عمومی مجالس میں شرکت سے روکا جائے اور انہیں صرف گھروں کی مجالس تک محدود رکھا جائے، مجالس کے شرکاءتسبیح، جائے نماز، سجدہ گاہ وغیرہ اپنے ہمراہ نہ لائیں، مصافحہ، معانقہ وغیرہ سے احتراز کیا جائے گا، تبرک اور نیاز کے دسترخواں کی بجائے پارسل کا اہتمام کیا جائے، رضاکار علم، تعزیہ اور شبیہ کو چھونے سے احتراز کریں، دور سے زیارت پر اکتفا کریں، عزاداری کے منتظمین مقامی انتظامیہ سے رابطہ میں رہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کریں، تقریر کرتے وقت شعلہ بیانی سے وائرس کا پھیلاﺅ زیادہ متوقع ہے جس کیلئے ذاکر کا کورونا ٹیسٹ کرنا لازم ہو اور صرف رزلٹ منفی ہونے کی صورت میں ہی شمولیت کی اجازت دی جائے، ذاکر سے دیگر حاضرین محفل کا فاصلہ 6 فٹ سے زیادہ ہو، ہوا کی سرکولیشن کیلئے مصنوعی سسٹم لگائے جائیں، بند کمروں اور ہالوں میں ایئرکنڈیشن کا استعمال نہ کیا جائے اور ذاکر کیلئے ماسک کا استعمال کرنا لازمی اقدامات ضروری قرار دیئے جائیں۔ اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ صحت، ضلعی انتظامیہ، این سی او سی سمیت مسالک کے نمائندہ علماءکرام علامہ عارف واحدی، سیّد بزرگ شاہ الازہری، ڈاکٹر ظفر جلالی، مولانا شریف ہزاروی و دیگر نے شرکت کی۔








