وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقیات وخصوصی اقدامات اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقیات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے ہفتہ کے روز قوم سے اپیل کی کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے وہ اسی ذمہ داری اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں جتنا انہوں ابتدائی دنوں میں کیا، پاکستانی قوم نے کئی ہفتوں تک بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا لیکن عید سے پہلے شاپنگ اور پھر عید …

اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقیات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے ہفتہ کے روز قوم سے اپیل کی کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے وہ اسی ذمہ داری اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں جتنا انہوں ابتدائی دنوں میں کیا، پاکستانی قوم نے کئی ہفتوں تک بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا لیکن عید سے پہلے شاپنگ اور پھر عید پر ڈسپلن نہیں دیکھا گیا ،جو لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں،وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے طاقتور ہتھیارحفاظتی تدابیر ہیں، ہم سب کی مجموعی ذمے داری ہے اور ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے ، سنی سنائی بات نہ پھیلائیں ، بغیر تصدیق کے کوئی بات آگے نہ پہنچائیں،حکومت کی آج بھی کورونا کے پھیلاو¿ میں کمی اولین ترجیح ہے لیکن مہینوں اور سالوں کے لیے قوموں کو بند نہیں کیا جاسکتا، ،صحت کا نظام بڑھا رہے ہیں ، طبی عملے کو ٹریننگ دی جارہی ہے ، 27مارچ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کام شروع کیا آج تک ایک دن بھی نہیں رکا،دنیا میں عالمی اداروں نے بھی پاکستان میں ریلیف کوششوں کوسراہا، کورونا وبا میں ڈاکٹرز کے بعد اگر کسی کا کام مشکل ہے تو وہ پولیس کا ہے۔ہفتہ کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں این سی او سی کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ رہنما اصولوں پر عمل کریں اور ایک بار پھر نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں تاکہ کرونا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے کامیاب اور طاقتور حکمت عملی یہ ہے کہ تمام لوگوں کو اس مرض کو شکست دینے کے لیے اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔انہوں نے تجارت اور صنعت کی قیادت کو خصوصی طور پر تاکید کی کہ وہ ان کے طے شدہ رہنما اصولوں پر عمل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اسد عمر نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کی رفتار کو کم کرنا ابھی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔بنیادی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، ہمیں بیماری کے پھیلاو¿ کی رفتار کو اس حد تک محدود کرنا ہے کہ ہمارے صحت کے نظام کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انتظامی کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ خاص علاقوں میں کرونا کیسز کی وجہ سے ملک بھر میں 884 مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے اور اس طرح کے لاک ڈاو¿ن سے دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا یہ بیماری مغربی ممالک کی نسبت پاکستان میں اتنی مہلک نہیں۔ایک ملین آبادی میں سے صرف 9 افراد اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ برطانیہ میں دس لاکھ آبادی میں سے 600 کرونا مریض ہلاک ہوئے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی زندگی بہت اہم ہے اور اب تک ہلاک ہونے والے تمام 1935 افراد کی زندگیاں یقینا بہت قیمتی تھیں اور ان کی جگہ کوئی چیز نہیں لے سکتی۔ملک میں کرونا وائرس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 26 فروری کو صرف آٹھ لیبارٹریز کام کر رہی تھیاور 472 ٹیسٹ لئے گئے۔آج ملک بھر میں سو سے زیادہ لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں اور روزانہ 22 ہزار کے قریب ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے ہے اور این ڈی ایم اے نے وینٹی لیٹر ز کو ریزرو میں بھی رکھا ہوا تھا جو ہسپتالوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ماسکس اور پروٹیکشن کٹس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور آج نہ صرف ہم ملک کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کو برآمد کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا سے متعلق امور کے بارے میں شکایات موصول کرنے کے لیے براہ راست ہیلپ لائن بھی قائم کی جارہی ہے اور ملک بھر کے ہسپتالوں میں لوگوں کو صحت کی سہولیات کی دستیابی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کی جا رہی ہے۔انہوں نے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر کے عملے سے خصوصی طور پر کہا کہ وہ اس ایپ کو ڈاو¿ن لوڈ کریں تاکہ وہ عام لوگوں کو معلومات فراہم کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاو¿ن سے متاثرہ افراد کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے کرونا ریلیف فنڈ اور دیگر کئی پیکیجز کے علاوہ بارہ سو ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔اسد عمر نے خصوصی طور پر ہیلتھ کیئر سسٹم کے کارکنوں اور ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا جو فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے اس وبا کے دوران تندہی سے کام کرنے پر انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے بعد پولیس دوسرا اہم شعبہ ہے جس میں لاک ڈاو¿ن کے دوران ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے سخت محنت کی۔انہوں نے آئی ایس پی آر کا بھی شکریہ ادا کیا جو وقت پر لوگوں کو کرونا وائرس کے بارے میں حکومت کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی او سی کی ٹیم 27 مارچ سے بغیر وقفے کے دن رات کام کر رہی ہے اور ان کی لگن اور جذبہ قابل تحسین ہے۔اس موقع پر این آئی ٹی بی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو شباہت شاہ نے کہا کہ پاک نگہبان ایمرجنسی رسپانس موبائل اپلیکیشن آج سے فعال ہوگی جب کہ ایک دو دن میں عام لوگوں کے لئے قابل عمل ہو گی۔