وفاقی وزیر پٹرولیم اور خیبرپختونخوا کے وزیر توانائی کی ملاقات، خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے توانائی تک بہتر رسائی کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور خیبرپختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نذیر احمد عباسی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، توانائی کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی میں بہتری اور خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے توانائی تک بہتر رسائی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور خیبرپختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نذیر احمد عباسی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، توانائی کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی میں بہتری اور خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے توانائی تک بہتر رسائی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق جمعرات کو وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور خیبرپختونخوا کے وزیر توانائی نذیر احمد عباسی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں توانائی کے اہم امور، تیل و گیس کی فراہمی، ای اینڈ پی سرگرمیوں کے تحفظ اور صوبے کو درپیش توانائی کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سیکرٹری توانائی و برقیات، حکومت خیبرپختونخوا بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے خیبرپختونخوا کے وزیر کو ملک میں تیل کی موجودہ فراہمی کی صورتحال اور عالمی پٹرولیم مارکیٹ میں اتار چڑھائو کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ہونے والی پیش رفت کے باعث ملکی توانائی کے شعبے کو دبائو کا سامنا ہے اور وفاقی حکومت مستحکم اور بلاتعطل توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت سکیورٹی فورسز کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں ایکسپلوریشن سرگرمیوں کو برقرار رکھنے اور وسعت دینے کے لیے محفوظ ماحول ضروری ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر نذیر احمد عباسی نے تسلیم کیا کہ اینڈ پی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے سکیورٹی کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ اینڈ پی سرگرمیوں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے کے لیے وفاقی حکومت، سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر رابطہ کاری اہم ہوگی۔ دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کی سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف پاکستان کی ملکی توانائی سکیورٹی مضبوط ہوگی بلکہ صوبے کی رائلٹی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔خیبرپختونخوا کے وزیر نے کہا کہ صوبے میں کنوئوں کی کامیابی کی شرح عالمی اوسط سے زیادہ ہے جو مزید ایکسپلوریشن اور سرمایہ کاری کی نمایاں استعداد کو ظاہر کرتی ہے۔

خیبرپختونخوا کو درپیش گیس کے مسائل پر گفتگو کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا کہ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث گیس کی فراہمی پر دبائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہتر ہونے کے بعد موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گیس کی فراہمی اور تقسیم کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ صوبائی حکومت پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک ہی جی کمپنی قائم کرے جس کے لیے ایل پی جی پالیسی کے تحت ایسے علاقوں کے لیے فراہم کردہ 10 فیصد ایل پی جی کوٹے سے استفادہ کیا جائے۔

پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں کے لیے مختص کی جانے والی ایل پی جی کے بارے میں بریفنگ دی اور یقین دہانی کرائی کہ مختص اور فراہمی سے متعلق مخصوص تفصیلات خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔ علی پرویز ملک نے پٹرولیم ڈویژن کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ خیبرپختونخوا کے محکمہ توانائی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کریں اور صوبائی حکومت کو توانائی سے متعلق مسائل کے حل میں ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حکومت کو عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ریاست کے مفادات کے تحفظ کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فلاح کی راہ میں سیاست حائل نہیں ہونی چاہیے اور تمام متعلقہ فریق عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔خیبرپختونخوا کے وزیر نذیر احمد عباسی نے اس نقظہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ مل بیٹھیں، مسائل کی نشاندہی کریں اور خیبرپختونخوا کے عوام کے حالات بہتر بنانے کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

مزید خبریں