پاکستان یوان کرنسی سویپ سہولت کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع کی درخواست کرے گا ، 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن سہولت کے حوالے سے امریکا سے دو ماہ کے اندر جواب موصول ہونے کی توقع ہے ، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کارائٹرز کوانٹرویو

پاکستان یوان کرنسی سویپ سہولت کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع کی درخواست کرے گا ، 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن سہولت کے حوالے سے امریکا سے دو ماہ کے اندر جواب موصول ہونے کی توقع ہے ، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کارائٹرز کوانٹرویو

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان 2027ء میں 30 ارب یوان کرنسی سویپ سہولت کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع کی درخواست کرے گا ،مجوزہ 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن سہولت کے حوالے سے امریکا سے دو ماہ کے اندر جواب موصول ہونے کی توقع ہے ، آئی ایم ایف سے اضافی فنانسنگ یا ہنگامی معاونت حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔انہوں نے یہ بات برطانوی خبررساں ادارہ رائٹرز کوانٹرویودیتے ہوئے کہی۔

وزیرخزانہ نے چین کے اپنے ہم منصب اور مرکزی بینک کے گورنر کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چین کے ساتھ 30 ارب یوان کی مکمل سویپ لائن استعمال کی جا چکی ہے تاہم حکومت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ سہولت کی تجدید کے وقت مزید کتنی فنانسنگ کی درخواست کی جائے گی۔ ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ہم تجدید کے وقت باضابطہ درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ انہیں توقع ہے کہ امریکاسے پاکستان کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن سہولت کے حصول کی درخواست پر دو ماہ کے اندر جواب مل جائے گا،حکومت امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ساتھ بھی بات چیت کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے امریکا اور چین دونوں سے بیک وقت اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کے حوالے سے سوال پرکہاکہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ بیک وقت اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین طویل عرصے سے ہمارا سٹریٹجک شراکت دار ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی قیادت کی سطح پر ہماری انڈرسٹینڈنگ اور تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ دونوں اہم اقتصادی طاقتوں اور عالمی سپر پاورز کے ساتھ اس نوعیت کے تعلقات رکھتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کی صوتحال کے بعد تیل کی قیمتوں میں ابتدائی اضافے سے پاکستان نے نسبتا بہتر انداز میں نمٹا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اگر یہ تنازع بدقسمتی سے نومبر یا دسمبر تک جاری رہتا ہے تو یہ ہمارے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹ سے رواں مالی سال کے لیے حکومت کا 4 فیصد اقتصادی شرح نمو کا ہدف متاثر ہو سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے ستمبر تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں تیل کا ذخیرہ یقینی بنا لیا ہے اور اکتوبر کے لیے بھی ملک کی پوزیشن مستحکم ہے۔ صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینے کے لیے ایک ادارہ جاتی طریقہ کار بھی قائم کر دیا گیا ہے جبکہ نومبر کے لیے تیل کی فراہمی کی منصوبہ بندی پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت آئی ایم ایف سے اضافی فنانسنگ یا ہنگامی معاونت حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی فی الحال ہمارا سوچا سمجھا موقف یہ ہے کہ صورتحال قابل انتظام ہے۔آئی ایم ایف کے آمدہ جائزہ کے حوالہ سے وزیرخزانہ نے کہاکہ ہمارے نقط نظر سے مقداری اہداف کے معاملے میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے اور ہم ڈھانچہ جاتی اہداف پر بھی بڑی حد تک عمل درآمد کر رہے ہیں۔