اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں تعینات نئے آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے ملاقات کی ،جس میں کان کنی اور قیمتی پتھروں (جیم سٹونز) کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں آسٹریلوی کمپنیوں کی گہری دلچسپی کا خیرمقدم …
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کی ملاقات، کان کنی اور قیمتی پتھروں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں تعینات نئے آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے ملاقات کی ،جس میں کان کنی اور قیمتی پتھروں (جیم سٹونز) کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں آسٹریلوی کمپنیوں کی گہری دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملک میں موجود معدنی وسائل کی وسیع مگر ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیت بالخصوص ٹیتھیان بیلٹ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کان کنی کے شعبے میں منظم اور طویل المدتی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان بین الحکومتی معاہدے (آئی جی اے) کے امکان کی تجویز بھی دی۔
علی پرویز ملک نے جیم سٹونز کے شعبے کی ترقی اور اس کی باضابطہ تشکیل کے لیے حکومتِ پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ شعبہ برآمدات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلوی کمپنیاں پہلے ہی ریکوڈک منصوبے میں فعال طور پر شامل ہیں جبکہ مزید آسٹریلوی کمپنیوں نے بھی اس منصوبے میں شمولیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلوی کمپنیوں کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) میں شرکت کی حوصلہ افزائی جائے گی اور اس موقع پر آسٹریلیا کی بھرپور نمائندگی کی امید ظاہر کی۔ ہائی کمشنر نے توانائی منتقلی کے تناظر میں تانبے اور سونے کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کان کنی کا شعبہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے جیم سٹونز کے شعبے میں علم کے تبادلے، تربیت اور تکنیکی معاونت کے ذریعے تعاون کے لئے پر امید ہیں۔ وفاقی وزیر نے معدنی شعبے کو باضابطہ بنانے کے میں پاکستان کی معاونت کے لیے آسٹریلیا کی آمادگی کو سراہتے ہوئے اسے بروقت اور حوصلہ افزاء قرار دیا۔
انہوں نے انٹرنیشنل مائننگ اینڈ ریسورسز کانفرنس (آئی ایم اے آر سی) میں شرکت کے لیے اپنے حالیہ دورہ آسٹریلیا کا بھی حوالہ دیا جہاں معروف اور جونیئر آسٹریلوی کان کنی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کے مواقع پر مفید بات چیت ہوئی۔ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی فائدے کے لیے کان کنی اور جیم سٹونز کے شعبوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔







