"وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔”
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کیلئے قائم کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے قائم ذیلی کمیٹیوں نےپٹرولیم قیمتوں کے تعین کے مختلف پہلوئوں سے متعلق اپنی سفارشات اور نتائج پیش کئے جبکہ کے پی ایم جی نے بھی خطے میں پٹرولیم کی قیمتوں اور ٹیکس کے ڈھانچے کا موازنہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی کے اراکین نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کےفارمولے اور نئے پٹرولیم پرائسنگ میکنزم میں شفافیت بڑھانے اور قیمتوں میں اتار چڑھائو کم کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن ایک واضح، مرحلہ وار اور قابل پیمائش روڈ میپ کے تحت ہونی چاہیے جس میں پیش رفت جانچنے کے لیے مخصوص اہداف اور سنگ میل مقرر کیے جائیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہےجہاں پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں، قابل اطلاق قیمتوں کے تعین کے فارمولے اور متعلقہ پلیٹس ڈیٹا سے متعلق معلومات دستیاب ہیں جس سے شفافیت اور عوام کی معلومات تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔اجلاس میں سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور مجوزہ پرائس سٹیبلائزیشن فنڈ کے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیاجن میں مارکیٹ میں اتار چڑھائو کم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں ان کے کردار پر غور کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن یقینی بنانے کا ذمہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ نظام میں شفافیت، ٹریس ایبلٹی، استعداد اور جوابدہی کو بہتر بنایا جاسکے۔ اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پرعائد پابندی اور اس کےمسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے ڈھانچے پر اثرات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی ایف ای ایم پول کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔اجلاس میں ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات پر غور کا عمل جاری رکھتے ہوئے پٹرولیم شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک جامع روڈ میپ مرتب کرے گی تاکہ شفافیت، مسابقت، استعداد اور صارفین کے تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔








