اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) متحدہ عرب امارات کی مبادلہ پٹرولیم کمپنی نے پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جبکہ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کی تیل و گیس کی تلاش و …
وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کی مبادلہ پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹیو مصباح الکابی سے ملاقات میں گفتگو وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کی مبادلہ پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹیو مصباح الکابی سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) متحدہ عرب امارات کی مبادلہ پٹرولیم کمپنی نے پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جبکہ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کی تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبے سے منسلک مبادلہ پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹیو مصباح الکابی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حمد عبید ابراہیم الزابی بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو انتہائی سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈاو¿ن سٹریم آئل ریفائننگ اور مارکیٹنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے، جہاں آئل مارکیٹنگ اور سٹوریج نیٹ ورک کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ مبادلہ پیٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو نے حکومت کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی متمنی کمپنیوں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبادلہ پٹرولیم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی متمنی ہے اور اپنے آپریشن کو وسعت دینا چاہتی ہیں۔ چیف ایگزیکٹو مبادلہ نے وفاقی وزیر پٹرولیم کو پارکو کوسٹل آئل ریفائنری کے قیام سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارکو ریفائنری دو لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ آئل ریفائین کرنے کی حامل ہوگی۔ دریں اثناءمبادلہ پٹرولیم ایل این جیو بزنس کے ساتھ ساتھ ساحل اور سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے نئے بلاکس میں بھی گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے مبادلہ کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے فروغ میں قابل ذکر اضافہ قرار دیا۔








