وفاقی ٹیکس محتسب نے 70 ملین روپے ٹیکس چوری کیس نمٹا دیا
وفاقی ٹیکس محتسب نے 70 ملین روپے ٹیکس چوری کیس نمٹا دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب نے تقریباً 70 ملین روپے کی مبینہ ٹیکس چوری اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی سے متعلق شکایت کو متوازی عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو غیر سنجیدہ شکایات کو زیر غور لاتا ہے اور نہ ہی ایسے معاملات کو دیکھ سکتا ہے جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہوں۔ زیر بحث کیس میں شکایت کنندہ نے اپنے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (ایس ٹی آر این) کی معطلی کو چیلنج کیا تھا۔
شکایت فیڈرل محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 10(1) کے تحت دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2 مئی 2025ء کو بغیر پیشگی نوٹس اور بغیر موقف سنے رجسٹریشن معطل کی گئی جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 21 اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول 12 کی خلاف ورزی ہے۔ مزید کہا گیا کہ قانون کے مطابق اگر 90 دن کے اندر بلیک لسٹنگ کا حکم جاری نہ ہو تو معطلی خود بخود غیر موثر ہو جاتی ہے تاہم اس کے باوجود رجسٹریشن بحال نہیں کی گئی۔دوسری جانب ریونیو ڈویژن نے شکایت کنندہ کے ٹیکس ریکارڈ پر سنگین اعتراضات اٹھائے۔
حکام کے مطابق متعلقہ ادارہ جو برف کے بلاکس بنانے کے کاروبار سے منسلک ہے، نے بغیر مناسب ٹیکس ادائیگی کے 19 ملین روپے سے زائد کی غیر معمولی کیری فارورڈ رقم ظاہر کی جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 70 ملین روپے سے زائد کی سیلز ٹیکس ذمہ داری سامنے آئی۔ حکام نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ برف جیسے جلد خراب ہونے والے کاروبار میں اتنی بڑی مقدار میں سٹاک برقرار رکھنا غیر معمولی ہے۔سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ شکایت کنندہ نے ایف ٹی او سے رجوع کرنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں بھی آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں معطل شدہ رجسٹریشن کی بحالی کی استدعا کی گئی ہے۔
ایف ٹی او نے قرار دیا کہ ایک ہی نوعیت کے ریلیف کے لیے دو مختلف فورمز سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے یہ فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 9(2)(a) کے تحت ایف ٹی او کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ چنانچہ شکایت کو مزید کارروائی کے بغیر بند کر دیا گیا۔
ایف ٹی او نے اپنے فیصلے میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ حقیقی اور جائز شکایات کے ازالے کے لیے سرگرم ہے تاہم متوازی قانونی کارروائیوں اور فورم کے غلط استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ ٹیکس فراڈ سے متعلق معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا۔








