اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے دہشت گردی اور پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی۔ جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق پنجاب حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کیلئے سمری وفاقی کابینہ …
وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے دہشت گردی اور پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی۔ جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق پنجاب حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کیلئے سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ کو ملک میں ٹی ایل پی کی پر تشدد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں حکومت پنجاب کے اعلیٰ افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس کو کالعدم تنظیم کی پر تشدد اور انتشار پھیلانے والی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 2016ء سے قائم اس تنظیم نے پورے ملک میں شر انگیزی کو ہوا دی، تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شر انگیزی کے واقعات ہوئے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2021ء میں بھی اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی جو 6 ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بدامنی اور پر تشدد کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021ء میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ایل پی کے پرتشدد احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں سکیورٹی اہلکار اور بے گناہ راہگیر جاں بحق ہوئے۔ بیان کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کو دی گئی بریفنگ اور حکومت پنجاب کی سفارش کے بعد متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی کہ ٹی ایل پی دہشت گردی اور پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔








