اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات، سرکاری اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں، ہائوسنگ شعبہ میں اصلاحات اور صحت کے شعبہ میں نجی شعبہ کے اشتراک سے ہسپتالوں کے قیام جیسے اہم ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر صوبائی …
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات، سرکاری اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں، ہائوسنگ شعبہ میں اصلاحات اور صحت کے شعبہ میں نجی شعبہ کے اشتراک سے ہسپتالوں کے قیام جیسے اہم ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا، وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات، سرکاری اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں، ہائوسنگ شعبہ میں اصلاحات اور صحت کے شعبہ میں نجی شعبہ کے اشتراک سے ہسپتالوں کے قیام جیسے اہم ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دیں تاکہ پسماندہ علاقوں میں وسائل کی یکساں تقسیم ممکن ہو سکے۔ وفاقی کابینہ کے اب تک 93 اجلاسوں میں 1759 فیصلے کئے گئے جن میں 1579 پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے، 28 فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہے جبکہ 46 فیصلوں عملدرآمد زیر عمل ہیں۔ کے الیکٹرک سے متعلق فیصلہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ہو گا جبکہ وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی کی سربراہی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں جو وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یوریا، آر ایل این جی، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کی ایڈجسٹمنٹ سمیت دیگر اہم فیصلے بھی اجلاس میں کئے گئے۔ سرکاری ملازمین کی پنشن اور حج کے حوالے سے خصوصی فنڈ کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے پرعزم ہیں، کابینہ کے اجلاس میں اعظم سواتی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی کی سفارشات حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جنہیں کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں سرکاری اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا، ماضی میں اس حوالے سے بڑی بے ضابطگیاں ہوتی رہی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اصلاحات کے مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے کیونکہ اصلاحات کرنا آسان کام نہیں ہوتا اس میں رکاوٹیں بھی حائل ہوتی ہیں، تاہم ہماری کوشش ہے کہ ایسی اصلاحات کی جائیں کہ آئندہ کوئی بے ضابطگیاں نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی اس پر کام بھی کر رہی ہے اور وزیراعظم نے ہدایت بھی کی ہے کہ اس حوالے سے جامع نظام تشکیل دیا جائے۔ کابینہ کے اجلاس میں عصمت خٹک کو نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اب تک 93 اجلاسوں میں 1759 فیصلے کئے گئے جن میں 1579 پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے، 28 فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہے جس کی وجوہات پر بھی غور کیا گیا جبکہ 46 فیصلوں عملدرآمد زیر عمل ہیں۔ صحت کے شعبہ میں اصلاحات کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری حکومت مختلف پیکجز پر غور کر رہی ہے کیونکہ تمام ہسپتال حکومت اکیلے نہیں بنا سکتی اس کے لئے سرکاری زمینوں پر نجی شعبہ کے اشتراک سے ہسپتال بنانے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں سرکاری حج کے امور اور پنشن فنڈز کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ سرکاری حج کے حوالے سے ملائیشیا کے ایک ماڈل پر غور کیا گیا تاہم اس میں موجود خامیوں کو دور کر کے حج امور کا تعین کیا جائے گا۔ پنشن کے معاملات کے لئے ایک فنڈ قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس عمل کو محفوظ بنایا جا سکے کیونکہ اداروں کے پاس پنشن کے پیسے نہیں ہوتے اور کاغذوں میں ظاہر کئے جاتے ہیں اس اقدام سے یہ عمل شفاف ہو گا۔ شمالی علاقہ جات میں درختوں کی کٹائی کو روکنے کے لئے شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے تقسیم کرنے کی سکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بیرون ملک 11376 قید پاکستانیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور جس طرح وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب ولی عہد شہزادہ سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر بھی انہیں باور کرایا تھا کہ معمولی جرائم میں قید پاکستانیوں کو رہا کیا جائے اور اس میں پیش رفت بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے تمام سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ قیدیوں کو قانونی معاونت کی فراہمی اور کوویڈ 19 کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان قیدیوں کی واپسی کے لئے متعلقہ حکومتوں سے بات چیت کا عمل تیز کیا جائے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ یوریا، آر ایل این جی، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر اداروں کی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بھی اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں ، کے الیکٹرک کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن بھی ایک اہم معاملہ ہے جو کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے پر تھا، اس حوالے سے صوبوں کے فنڈز کے فارمولے پر غور کیا گیا اور وزیراعظم نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الفور اپنے صوبائی فنانس کمیشن بنائیں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر وفاق میں فنانس کمیشن کے معاملات کی نگرانی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر فنانس کمیشن کے قیام سے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے مواقع ملیں گے اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں سے محرومیاں ختم ہوں گی اور مساوی فارمولے کے تحت وسائل کی مساویانہ تقسیم ممکن ہو گی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نہ تو کوئی ایجنڈا ہے، نہ کہنے کو کوئی بات اور نہ ہی کوئی متبادل راستہ ہے، اپوزیشن کی ہمیشہ حکمت عملی یہی رہی ہے کہ وہ احتساب سے راہ فرار اختیار کرے، جسے پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے وہی احتساب سے بھاگتا ہے، انہوں نے کہا پاکستان بدل گیا ہے، اب وہ پاکستان نہیں رہا، ماضی کے پاکستان کو لوگوں نے ذہنوں میں دفن کر دیا ہے جس میں نہ میرٹ تھا اور نہ انصاف، دھونس اور دھاندلی سے حکومتیں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود مشکل حالات میں پاکستان تحریک انصاف کو جب اقتدار ملا تو اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی ساڑھے پانچ کھرب صرف قرضوں کی ادائیگی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ احسن اقبال جس قیادت کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ بیرون ملک چھٹی منا رہی ہے، ملک کوویڈ 19 کی مشکل صورتحال میں ہے اور احسن اقبال کی قیادت لندن میں اپنے محلات میں رہی ہے، یہ وہ درباری ہیں جو قوم کا وقت بھی برباد کر رہے ہیں، یہ درباری ایسے قائد کی نمائندگی کر رہے ہیں جس نے باہر جائیدادیں بنائیں اور جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا یہ قیادت بھی مشکل حالات میں قوم کو چھوڑ کر باہر جا بیٹھی۔ یہ درباری عمران خان کے ساتھ کس اعتبار سے اپنی قیادت کا موازنہ کرتے ہیں؟ وزیر اطلاعات نے کہا کہ احسن اقبال قوم کا وقت ضائع کرنے کی بجائے یہ ثابت کرے کہ ان کی قیادت پاکستانی ہے جو ہر مشکل وقت میں باہر جا بیٹھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کو دیکھیں تو وہ بھی ایسی ہی باتیں کرتے نظر آ رہے ہیں، درحقیقت اپوزیشن ذہنی طور پر اپاہج ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا مقصد پاکستان کی بہتری نہیں بلکہ ان کا ایجنڈا اپنی اپنی قیادت کو بچانا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے لالچ اور کرپشن کی بنیاد پر حکومتیں چلائیں، میرٹ اور شفافیت سے عاری کلچر متعارف کرایا، دو حکومتوں میں فرق یہ ہے کہ یہ اہل اور ایماندار حکومت ہے اور وہ نااہل اور کرپٹ تھے، اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا ہے نہ پروگرام۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت نے کوویڈ 19 کی صورتحال سے بڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور بڑی بڑی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان ثابت قدم رہا اور کہیں خوراک کی قلت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے بطور احسن کورونا کی صورتحال میں ملکی معیشت کو بچایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب معیشت سر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو نقصان ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن پاکستان کی تاریخ میں ایسے حالات میں اتنی غیر ملکی سرمایہ کاری کبھی نہیں ہوئی جتنی ان حالات میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کرپٹ قیادت کا اہل اور دیانتدار قیادت سے مقابلہ کر رہی ہے، درحقیقت جو دعوے بھٹو نے کئے تھے تحریک انصاف ان پر صحیح معنوں میں عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے باہر جا کر سرے محل بنائے اور ہماری حکومت ہائوسنگ کے شعبہ میں اصلاحات رہی ہے جس سے نچلے طبقے تک ثمرات منتقل ہوں گے، پہلے مرحلے میں کامیاب احساس پروگرام کے بعد اب دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ احسن اقبال کا گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ وہ جب سو کر اٹھتے ہیں کہ دوبارہ اس بوجھ تلے سو جاتے ہیں۔ انہوں نے ٹڈی دل پر بھی جملے بازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً یہ حالات ان کے دور میں ہوتے تو یہ ان ھالات میں بھی مال بناتے اور یہ لوگ چند ہفتوں سے بے یقینی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان ان جیسے موروثی سیاستدان نہیں، ان کی قیادت میں ملک ترقی کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بہت چیلنجز ہیں، یہ عام حالات نہیں، پوری دنیا تلاطم کی صورتحال سے گزر رہی ہے، ایسی صورتحال میں ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارے حالات ان سے بہت بہتر ہیں، فوڈ سپلائی چین برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوگر کمیشن میں جن چیزوں کی نشاندہی کی ان میں بتایا گیا ہے کہ کاشتکار سے لے کر عوام تک کو کس طرح نقصان پہنچایا جاتا رہا ہے جو فیصلہ آیا وہ مثبت ہے، اس پر عملدرآمد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی کو بدنام کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینا ہے اور امید ہے کہ عوام کو ریلیف ملے گا، ہماری کوشش ہے کہ عوام کو سستی سے سستی چینی ملے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کا سرے سے وجود نہیں ہوتا لیکن وہ پھیلا دی جاتی ہیں، بعض باتیں میرے نام سے بھی منسوب کر کے چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پنشن ختم کرنے کے حوالے سے باتیں کی جا رہی ہیں، ہم تو حج پر بھی کمیشن بنانے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ ہم پنشن ختم کر رہے ہیں، ریکارڈ کو ٹھیک کرنے کے لئے بہت سی چیزیں بہتر کرنا پڑتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے پینل اکانومی کی بات کی لیکن ایک انگریزی اخبار نے اسے بلیک اکانومی لکھا، بعض چیزوں کو ملکی مفاد میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سول ایوی ایشن اور ایئرفورس کی ملکیتی اراضی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی ادارے نے کسی زمین پر قبضہ نہیں کیا بلکہ دونوں اداروں کے درمیان ملکیت کے کچھ معاملات ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے سلجھایا جا رہا ہے اور کوئی ایسی وجوہات نہیں جن کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریڈیو میں پنشن فراڈ کے معاملے پر ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو بھی ذمہ داران ہوں گے انہیں کڑی سزا دی جائے گی، قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں پی ٹی وی میں بھرتیوں سے متعلق بے قاعدگیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے اور آئندہ اجلاسوں میں اس معاملے کو نمٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مضبوط ہے اور ہمارے جذبے مستحکم ہیں، کوویڈ 19 کی جدوجہد کے بعد ہمارے جذبوں کو مزید دوام ملا ہے، کوئی اتحادی چھوڑ کر نہیں جا رہا، تحفظات ہوتے ہیں انہیں مل بیٹھ کر حل کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کے جلسے ہوں ان میں لوگوں کی شرکت شناختی کارڈ اور شجرہ نسب دیکھ کر نہیں ہوتی، عزیر بلوچ کی کسی جلسے میں شرکت کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے تبصرے کو انہوں نے سمجھ سے بالا تر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعید غنی جب یہاں تھے وہ بڑی سلجھی باتیں کرتے تھے سندھ میں جا کر بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔








