وینزویلا میں زلزلہ متاثرین کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں تیز، ہزاروں افراد متاثر

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔شنہوا کے مطابق او سی ایچ اے نےبتایا کہ اقوام متحدہ مختلف امدادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنوبی امریکی ملک میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے …

اقوام متحدہ ۔18جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔شنہوا کے مطابق او سی ایچ اے نےبتایا کہ اقوام متحدہ مختلف امدادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنوبی امریکی ملک میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ 100 سے زائد امدادی تنظیمیں اب تک 14 ریاستوں میں 2,200 سے زیادہ امدادی سرگرمیاں انجام دے چکی ہیں، جن میں گرم کھانے کی فراہمی، خیموں کی تقسیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی شامل ہے۔ادارے کے مطابق اب تک 525 ٹن سے زائد انسانی امدادی سامان، جس میں خوراک، ادویات، رہائش کا سامان، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات شامل ہیں، متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا چکا ہے۔ امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر مرکز لا گوائیرا ریاست ہے، جو زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔وینزویلا کے حکام کے مطابق 24 جون کو آنے والے زلزلوں کے بعد سے اب تک تقریباً 5 ہزار افراد ہلاک جبکہ 16 ہزار 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے اب تک تقریباً 74 ہزار متاثرہ افراد کو غذائی امداد فراہم کی ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے تقریباً 7 ہزار افراد کو عارضی کیمپوں اور اجتماعی پناہ گاہوں میں رہائش، طبی سہولیات، تحفظ، صاف پانی، صفائی اور نفسیاتی معاونت سمیت دیگر ضروری خدمات فراہم کی ہیں۔او سی ایچ اے کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے لیے 2026 کے انسانی امدادی منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 5.5 ملین افراد کی مدد کے لیے 632 ملین امریکی ڈالر درکار تھے، تاہم زلزلوں کے بعد آئندہ چھ ماہ کے دوران مزید 13 لاکھ متاثرین کی امداد کے لیے اضافی 300 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس طرح مجموعی مالی ضرورت 931 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، لیکن اب تک اس کا 40 فیصد سے بھی کم فنڈز موصول ہوئے ہیں، جس کے باعث تقریباً 570 ملین ڈالر کی کمی برقرار ہے۔