امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں لگنے والی جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس آلودگی سے نمٹنے پر آنے والی "ناقابلِ حساب لاگت” کو کینیڈین مصنوعات پر پہلے سے عائد ٹیرف میں شامل کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے جنگلاتی آگ کے دھوئیں کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دے دیا، ٹیرف میں اضافے کی دھمکی

مزید خبریں
اوٹاوا۔18جولائی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں لگنے والی جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس آلودگی سے نمٹنے پر آنے والی "ناقابلِ حساب لاگت” کو کینیڈین مصنوعات پر پہلے سے عائد ٹیرف میں شامل کیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق کینیڈا میں جنگلاتی آگ کے باعث اٹھنے والے گھنے دھوئیں نے امریکہ کے مڈویسٹ سے شمال مشرقی علاقوں تک فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ وہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی سے رابطہ کریں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ اس "بالکل ناقابلِ قبول” صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا اپنے جنگلات کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہا، جس کے نتیجے میں آلودہ اور غیر صحت بخش ہوا امریکہ میں داخل ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے اسے "دانستہ غفلت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اب ہر سال پیش آنے لگا ہے اور اس سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جس کی قیمت کینیڈا پر عائد محصولات میں شامل کی جائے گی۔دوسری جانب کینیڈا کی وزیر برائے ہنگامی انتظام اور کمیونٹی ریزیلینس ایلینور اولشوسکی نے کہا کہ حکومت نے 2020 سے اب تک جنگلات کے تحفظ اور آگ کی روک تھام کے لیے 12 ارب کینیڈین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد کے دونوں جانب جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے طویل عرصے سے باہمی تعاون جاری ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور طویل خشک سالی نے کینیڈا میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اہم مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کر چکے ہیں، جبکہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے حال ہی میں کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو بھی مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔








