ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن کا بجٹ اقدامات کا خیرمقدم، ڈیجیٹل ترقی کے لیے مزید اصلاحات پر زور

ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن کا بجٹ اقدامات کا خیرمقدم، ڈیجیٹل ترقی کے لیے مزید اصلاحات پر زور

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن (ٹی او اے) نے وفاقی بجٹ 27 ۔ 2026 کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور پاکستان کی طویل مدتی ترقیاتی ترجیحات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بجٹ میں شامل متعدد اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل معیشت کی اہمیت کو مسلسل تسلیم کر رہی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق ٹی او اے نے خاص طور پر سرمایہ کاری، خدمات تک آسان رسائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ سے متعلق اقدامات کو سراہا ہے۔ ان میں مقامی سطح پر موبائل فونز کی تیاری کے لیے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی حکومتی تجویز شامل ہے، جسے فنانس بل کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس اقدام سے موبائل فونز نسبتاً سستے ہوں گے اور کنیکٹیویٹی کے فروغ میں مدد ملے گی۔

ایسوسی ایشن نے سپر ٹیکس میں ردوبدل کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں مدد ملے گی۔ ٹی او اے نے امید ظاہر کی ہے کہ انڈسٹری کی جانب سے پیش کی گئی دیگر اصلاحاتی تجاویز کو بھی حکومت کے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا۔ تاہم ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ موبائل صارفین پر ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کا اس کا دیرینہ مطالبہ بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ایسوسی ایشن کے مطابق موبائل صارفین اب بھی ٹیلی کام خدمات پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور 15 فیصد ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث لاکھوں پاکستانیوں کے لیے کنیکٹیویٹی مہنگی ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 20 کروڑ 60 لاکھ موبائل صارفین موجود ہیں، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 77 لاکھ ہے۔

اس صورتحال میں صارفین کی اکثریت قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد سے نیچے آتی ہے اور ان کے پاس موبائل استعمال پر کٹوتی کیے جانے والے 15 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی واپسی کا کوئی مؤثر طریقہ موجود نہیں۔ٹی او اے نے توقع ظاہر کی ہے کہ جاری پالیسی مباحثوں میں براڈ بینڈ نیٹ ورک کے پھیلاؤ اور طویل مدتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ان میں آپٹیکل فائبر انفراسٹرکچر پر عائد ڈیوٹیز میں ردوبدل بھی شامل ہے، جو براڈ بینڈ نیٹ ورکس کی توسیع، فائبر کی تنصیب میں تیزی اور مستقبل کی کنیکٹیویٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ایسوسی ایشن نے ان اصلاحات میں پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی ہے جو ٹیکس نظام میں یقین دہانی کو بہتر بنائیں، انتظامی صوابدید کو کم کریں اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کریں، تاکہ سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مزید سازگار ماحول تشکیل دیا جا سکے۔ٹی او اے نے زور دیا کہ یہ اصلاحات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ٹیلی کام شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

قابلِ اعتماد اور کم لاگت موبائل رابطہ کاری مالی شمولیت، تعلیم، صحت، ای کامرس، زراعت، صنعت اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل خدمات بھی اسی انفراسٹرکچر پر استوار ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری نہ صرف اس شعبے کی ترقی بلکہ ملکی معیشت کی مسابقت اور ڈیجیٹل مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ٹی او اے کے سیکریٹری جنرل کمال احمد نے کہا:”ٹیلی کام ایک ایسا شعبہ ہے جو پوری معیشت میں ڈیجیٹل تبدیلی کو ممکن بناتا ہے۔ ایسی پالیسیاں جو خدمات کو مزید قابلِ استطاعت بنائیں، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں اور انفراسٹرکچر کی تیز رفتار تنصیب کو ممکن بنائیں، ان کے فوائد صرف ٹیلی کام شعبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پیداواریت، جدت، مالی شمولیت اور معاشی ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

ہم حکومت کے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور بجٹ میں اختیار کی گئی سمت کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت صنعت کی جانب سے پیش کردہ دیگر اصلاحات پر بھی غور کرے گی، جو ڈیجیٹل اپنانے کے عمل، سرمایہ کاری اور پاکستان کے وسیع تر ڈیجیٹل ترقیاتی ایجنڈے کو مزید تیز کر سکتی ہیں۔دریں اثنا، ٹی او اے نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے کو بلا معاوضہ کرنے کے حکومتی فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ایک اہم اصلاح ہے جو صنعت کے دیرینہ مسئلے کو حل کرے گی اور نیٹ ورک کی توسیع، براڈ بینڈ کوریج میں اضافے، انفراسٹرکچر کی تنصیب کی لاگت میں کمی اور ملک بھر میں شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے بہتر رابطہ کاری میں معاون ثابت ہوگی۔ٹی او اے نے حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے ڈیجیٹل ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرمایہ کاری، جدت اور جامع ڈیجیٹل ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔