پائیدار ترقی کے لیے انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے،صدر فیصل آباد چیمبر
پائیدار ترقی کے لیے انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے،صدر فیصل آباد چیمبر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 24 جون (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے کیونکہ موجودہ دور میں محض نظریاتی تعلیم کے بجائے عملی تحقیق اور انوویشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سمن آباد کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر پاکستان کا تیسرا اور پنجاب کا دوسرا بڑا چیمبر ہے جس کے 22 ہزار ممبران 128 مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیمبر حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ بجٹ کے حوالے سے حکومت کو جامع معاشی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا 67 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے اور کراچی کے بعد ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔انہوں نے فیصل آباد کے حالیہ روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کو سراہتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ فیصل آباد کو بھی لاہور کی طرز پر مساوی ترقیاتی فنڈز دیے جائیں۔انہوں نے شہر میں آئی ٹی یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ خواتین ملکی آبادی کا تقریباً 51 فیصد ہیں اس لیے قومی ترقی کے لیے خواتین اور نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی حقیقی سٹیک ہولڈر ہے اور حکومت کو معاشی پالیسی سازی میں تاجروں کی مشاورت کو شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے چیمبر کی فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چیمبر نے قدرتی آفات اور سیلاب کے دوران متاثرین کی امداد اور بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سمن آباد کے شعبہ اکنامکس کی ہیڈ محترمہ عاصمہ اکبر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر کی جانب سے طالبات کے لیے اس دورے کا اہتمام اور قیمتی وقت نکالنا ایک بہترین اقدام ہے کیونکہ طالبات کو اس قسم کے عملی مشاہدہ کی اشد ضرورت تھی۔
انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے نصاب میں انٹرپرینوئر شپ کا مضمون متعارف کرانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں ایک طویل عرصے سے یہ کمی موجود تھی کہ سارا فوکس صرف تھیوری پر تھا اور پریکٹیکل کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ امید ہے کہ اس نئے مضمون اور انڈسٹری-اکیڈمیا لینکجز سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور طالبات کو چیزوں کی پریکٹیکل ایپلی کیشن کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔آخر میں صدر چیمبر فاروق یوسف شیخ نے عاصمہ اکبر کو فیصل آباد چیمبر کی شیلڈ دی۔








