اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) سابق وزیر خزانہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ پکڑ دھکڑ اگر سیاسی انتقام کے لئے ہو تو نہ یہ ملک کے لئے اور نہ ہی انتقام لینے والے کے لئے اچھی ہے‘ اگر کسی نے قومی دولت لوٹی ہے تو پارلیمان کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ اس کے لئے …
پارلیمان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی دولت لوٹنے والوں کے لئے جزا و سزا کا نظام وضع کرے‘ اسد عمر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) سابق وزیر خزانہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ پکڑ دھکڑ اگر سیاسی انتقام کے لئے ہو تو نہ یہ ملک کے لئے اور نہ ہی انتقام لینے والے کے لئے اچھی ہے‘ اگر کسی نے قومی دولت لوٹی ہے تو پارلیمان کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ اس کے لئے جزا و سزا کا نظام وضع کرے‘ موجودہ معاشی حالات مشکل ضرور ہیں لیکن حکومتی ارکان اسی محنت اور لگن سے غریب عوام کے ساتھ اور اشرافیہ کے خلاف کھڑے رہے تو ان میں جلد بہتری آئے گی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں آصف علی زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے بعض نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کے لئے ہو تو نہ ملک کے لئے اچھی ہے اور نہ انتقام لینے والے کے لئے یہ اچھی ہے، جزا و سزا کا نظام اللہ تعالیٰ کا نظام ہے








