پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 ترامیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کو ترامیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ بل کے حق میں 160ووٹ جبکہ مخالفت میں79 ووٹ دیئے گئے۔مشترکہ اجلاس میں اس بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ وفاقی …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کو ترامیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ بل کے حق میں 160ووٹ جبکہ مخالفت میں79 ووٹ دیئے گئے۔مشترکہ اجلاس میں اس بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیرتارڑ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 جو صدر مملکت کی جانب سے نظر ثانی کے لئے واپس بھجوانے کے بعد دوبارہ ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس پر ایوان کی رائے حاصل کی گئی ۔ اس قانون کے حق میں 160 جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ پڑے، اس طرح بل پیش کرنے کی تحریک ایوان نے منظور کر لی جس کے بعد وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بل ترامیم کے ساتھ منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا جس کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شق وار منظوری لی۔

بعد ازاں ایوان نے بل کثرت رائے سے بل منظور کر لیا ۔وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کے تکنیکی پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لارجر کمیٹی تشکیل دی جس میں تمام مسیحی اراکین اسمبلی میں معاملہ بھجوایا گیا جس کے بعد یہ معاملہ سینیٹ آف پاکستان کے سپرد ہوا ۔ سید علی ظفر کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوئی، اس میں دونوں اطراف کے مسیحی اراکین کو بٹھایا گی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں سمجھتے وہ اس قانون سے ہی باہر ہیں ۔پاکستان کا آئین اور ریاست کہتی ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن وہ نہیں مان رہے، یہ ان کا اپنا عمل ہے ، ہم نے روز محشر اپنے آقاﷺ کے حضور سرخرو ہو کر پیش ہونا ہے ۔میرے آقاﷺ کا ہی حکم ہے کہ اقلیتوں کا تحفظ کرو ، ہمارے آئین کا آرٹیکل 20 اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، سپر یم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل کی تشریح کی کہ جو لوگ اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے ،اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی شعائرکی ترویج کرنا چاہتے ان کو آئین کے آرٹیکل 20 کا تحفظ نہیں ہو گا۔

اسی روشنی میں یہ قانون بنایا گیا ۔ وزیر قانون نے کہا کہ کمیشن کو ازخود نوٹس کا اختیار دینے کی سیکشن بھی ختم کر دیتے ہیں۔ اس طرح اپوزیشن کی جانب سے دو سیکشن کو ختم کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے ۔وزیر قانون نے کہا کہ قرآن و سنت کے منافی کسی قسم کی تجویز کی قانون اور ہمارا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ کوئی تجویز لائی جائے ۔ کامران مرتضی کی تجویز آئی کہ اس بل سے سیکشن 35 نکال دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں لفظ غیر مسلم درج ہے ۔ عیسائی ، ہندو اور پارسی بھائی بھی ہیں۔

سپر یم کورٹ نے 2014ء میں فیصلہ دیا کہ اقلیتوں کے لئے کمیشن بنایا جائے ۔10 سال بعد یہ معاملہ مشترکہ اجلاس میں آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آقاﷺ ؐ کے حضور سرخرو پیش ہونا ہے ، جو جائز تجاویز آئیں ہیں، ابہام کو دور کرنے کے لئے ترامیم کو شامل کیا جارہا ہے ۔ جے یو آئی کے سربرا ہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کا نہیں ، اقلیتوں کا تحفظ ہم سب چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس نسیم الحسن شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو ایک سوال پیدا ہو کہ آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی ہونی چاہیئے لیکن فیصلہ دیا گیا کہ تمام آئین مساوی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا قانون نہیں ہونا چاہیئے جس سے کل کوئی غلط فائدہ اٹھائے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں آئین دو طرح کی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے۔

مشترکہ اجلاس میں آرٹیکل 70 اور آرٹیکل 75 کے تحت معاملات آتے ہیں۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 73 ایک ایوان سے قانون پاس ہو جائے تو دوسرے ایوان میں پاس نہ ہو تو یہ مشترکہ اجلاس میں جاتا ہے ۔ سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان جب اس بل پر بات کرتی ہے تو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ ہم اس بل کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں کو اپنے جیسا شہری سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دو باتوں پر اعتراض ہے ، اس قانون سازی کو جس نے بھی ڈرافٹ کیا ہے میں سیکشن 35 قابل اعتراض ہے ۔سیکشن ون کو سیکشن 35 کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو اس کا اثر یہ ہو گا کہ جو حالیہ قانون سازی ہوتی ہے ،صدر مملکت دستخط کر دیتے ہیں تو اس سے پہلے کی تمام قانون سازی پر فوقیت رکھے گا۔

انسداد قادیانیت آرڈیننس 1984 پر بھی اسے فوقیت آجائے گی ، عدالتوں میں ایسی بحث اور مسئلہ شروع ہو جائے گا جس سے ہم سب کے لئے مسائل پیدا ہو ں گے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ سیکشن 35 کو مکمل ختم کر دیا جائے۔ سیکشن 12 کے کلاز ایچ میں ازخود نوٹس کا اختیار کمیشن کو دیدیا گیا ہے ، ایک طرف عدالتوں سے ازخود نوٹس کا اختیار ختم تو دوسری طرف دیا جانا دوہرا معیار ہو جائے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،ایوان کے اندر بھی اپوزیشن کے حقوق کا خیال رکھا جائے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ اضافی اختیارات اس کمیشن کو دیئے گئے ہیں اس پر نظر ثانی کی جائے ۔