اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس اور انکم ٹیکس آرڈیننس سے متعلق متعدد مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے کیسز کے قابل سماعت ہونے پر دائر تمام اعتراضات مسترد کر دیئے اور واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ فیصلے کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو 300 ارب روپے سے زائد کا مالی فائدہ ہو گا۔چیف جسٹس …
پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس اور انکم ٹیکس آرڈیننس سے متعلق متعدد مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے کیسز کے قابل سماعت ہونے پر دائر تمام اعتراضات مسترد کر دیئے اور واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔
فیصلے کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو 300 ارب روپے سے زائد کا مالی فائدہ ہو گا۔چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 4(b) کو ٹیکس سال 2015 سے برقرار رکھا جائے گا جبکہ ہائی کورٹس کی جانب سے سیکشن 4(c) سے متعلق دیئےگئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں۔
عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق 2015ء اور 2022ء میں دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔قبل ازیں مختلف سماعتوں کے دوران سیکرٹری ریونیو ڈویژن کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹیکسیشن سے متعلق قانون سازی، ٹیکس کی شرح، سلیبز اور حد آمدن کا تعین مکمل طور پر پارلیمنٹ کا آئینی اختیار ہے جس میں عدلیہ مداخلت کی مجاز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کردار صرف قانون کی تشریح تک محدود ہے، قانون کو دوبارہ لکھنا یا اس کی افادیت کو ختم کرنا عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
حافظ احسان نے عدالت کو بتایا کہ ریونیو ڈویژن قواعد کار 1973 کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے وزارت قانون یا اٹارنی جنرل آفس سے مشاورت کے بغیر اپیل دائر کرنے اور مقدمات کی پیروی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ سیکرٹری ریونیو ڈویژن، ایف بی آر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر تمام اپیلیں آئین کے آرٹیکل 99، قواعدِ کار 1973 اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت مکمل طور پر قابل سماعت ہیں۔
دلائل میں مزید کہا گیا کہ سیکشن 4(b) کے تحت 2015ء میں عائد سپر ٹیکس برقرار ہےجبکہ سیکشن 4(c) ایک خودمختار چارجنگ سیکشن ہے جو کسی صورت دہری ٹیکسیشن کے زمرے میں نہیں آتا۔ حافظ احسان کے مطابق سپر ٹیکس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا گیا اور ٹیکس کی ذمہ داری ریٹرن فائل ہونے پر ہی پیدا ہوتی ہے اس لیے کسی مکمل شدہ لین دین پر اثر انداز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینیولینٹ فنڈز پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا جبکہ مختلف سیکٹرز سے متعلق جو الگ قانونی رعایتیں موجود ہیں وہ بدستور برقرار رہیں گی۔ آئل اینڈ گیس سیکٹر کے بارے میں حافظ احسان نے موقف اختیار کیا کہ اگر کسی ادارے یا کمپنی کا انفرادی طور پر کسی رعایت کا دعویٰ بنتا ہے تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتی ہے، جسے عدالت نے تسلیم کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے وکیل ریونیو کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہائی کورٹس کا سیکشن 4(c) کو ’’ریڈ ڈائون‘‘ کرنا آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹیکس پالیسی، شرحیں اور مالیاتی فیصلے پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار ہیں اور عدلیہ ان میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سپر ٹیکس سے متعلق تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں اور ہائی کورٹس کے متنازع فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار پاتے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ تفصیلی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔







