پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے حوالہ سے سپیکر قومی اسمبلی پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد ہیں،ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) ترجمان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے حوالہ سے سپیکر قومی اسمبلی پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپیکر نے آئین اور قواعد کے تحت مکمل غیر جانبداری سے ایوان کی کارروائی چلائی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اخبارات …

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) ترجمان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے حوالہ سے سپیکر قومی اسمبلی پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپیکر نے آئین اور قواعد کے تحت مکمل غیر جانبداری سے ایوان کی کارروائی چلائی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اخبارات میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے 16 ستمبر کو ہونے والے مشترکہ اجلاس کی کارروائی میں سپیکر قومی اسمبلی پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی اور اس مخصوص دن ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے کسٹوڈین ہونے کی حیثیت سے ایوان کی کارروائی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 70 کی شق (3)، مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973 اور قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد 2007ءکے تحت اورکسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ جانبداری برتے بغیر ایوان کی کارروائی چلائی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سپیکر نے قائدحزب اختلاف، پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور مشترکہ اجلاس میں ان بلوں پر ترامیم پیش کرنے والے اراکین کو ان بلوں پر اجلاس میں اظہار خیال کا موقع دیا تاہم انہوں نے اپنے اس حق سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے بل پر بات کرنے کے بجائے بل کو پیش کرنے کے لئے پیش کی گی تحریک کو چیلنج کیا اور گنتی کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ گنتی کے نتیجہ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے بالترتیب 200 اور 190 ممبران نے ا±س تحریک کے حق اور مخالفت میں ووٹ دیاجبکہ حزب اقتدار کے 9اور حزب اختلاف کے 32ممبران ایوان کی کارروائی سے غیر حاضر تھے۔ مزید برآں قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد 2007ءمیں وضع کردہ طریقہ کار کو اختیار کیا گیا اور ان بلوں پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں کمیٹی کی سطح پرتفصیلی بحث کی گئی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں ان بلوں کی منظوری کے وقت ان پر سیر حاصل بحث ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 70 کی شق (3)، مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973ءاور قومی اسمبلی میں قوائد و ضوابط اور کاروائی کے طریقہ کارکے قواعد 2007ءکے تحت عمل میں لائی گی۔ ترجمان نے اس بات کو خاص طور پر واضح کیا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ممبران نے قومی اسمبلی اور سینٹ کی کمیٹیوں میں ہونے والی بحث میں بھرپور حصہ لیا اور مختلف ترامیم تجویز کیں جو کمیٹیوں اور بعد ازاں قومی اسمبلی اور مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئیں۔

مزید خبریں