اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان، ایران، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندگان نے کیو فور کے ایک اہم اجلاس میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کے فریم ورک کی تین نکاتی پالیسی پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت مہاجرین کی وطن واپسی، ان کے معاشرے میں دیرپا ادغام اور میزبان ممالک کیلئے سپورٹ پروگرام پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ اتفاق …
پاکستان، ایران، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندگان پر مشتمل کیو فور کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان، ایران، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندگان نے کیو فور کے ایک اہم اجلاس میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کے فریم ورک کی تین نکاتی پالیسی پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت مہاجرین کی وطن واپسی، ان کے معاشرے میں دیرپا ادغام اور میزبان ممالک کیلئے سپورٹ پروگرام پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ اتفاق جنیوا میں ہونے والے کیو فور اجلاس میں طے پایا جس میں وزیر سیفران شہریارخان آفریدی، افغانستان کے وزیر مہاجرین سید حسین عالمی بلخی، ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی اور یو این ایچ سی آر کے رہجنل ڈائریکٹر شریک ہونے۔ کیو فور اجلاس نے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ دسمبر میں منعقد ہونے والے گلوبل ریفیوجی فورم میں افغان مہاجرین کی امداد کے اعلی کام کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا۔ اجلاس میں طے پایا کہ افغان مہاجرین کی میزبانی میں مسائل کے حل کیلئے کاوشیں کی جائیں گی اور ان کی رضاکارانہ وطن واپسی کو جلد از جلد ممکن بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ مہاجرین کے سپورٹ پروگرام میں نئے شراکت دار شامل کئے جائیں گے جو میزبان اور مہاجرین کے آبائی ممالک میں مہاجرین کی امداد کیلئے کردار ادا کریںگے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہریارخان آفریدی نے پاکستان افغان مہاجرین کیلئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امداد نہیں چاہئے بلکہ ہم امداد کو عالمی طور پر تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے افغان مہاجرین کیلئے کی گئی کوششوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جو عام پاکستانی کو میسر ہیں۔ ان میں سوشل سروسز، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ شہریارخان آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے افغان مہاجرین کو بنک اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت دی ہے جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تعریف نہیں چاہئے مگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا مہاجرین کے بوجھ کو اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرے اور پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو تسلیم کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی یافتہ دنیا مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور اس عمل میں اپنا حصہ ڈالے۔ افغان وزیر مہاجرین سید حسین عالمی بلخی نے کہا کہ افغانستان مہاجرین کی وطن واپسی اور انکطیی معاشرے میں ادغام کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریگا۔








