پاکستانی کرنسی میں فیس جمع کروانے سے متعلق سندھ کے میڈیکل کالجز کے طلباء کی درخواستیں خارج

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے فارن/اوورسیز کوٹہ پر میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے بعد پاکستانی کرنسی میں فیس جمع کروانے سے متعلق سندھ کے میڈیکل کالجز کے طلباء کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے طلباء کی اپیل مسترد کر دی۔کیس کی سماعت بدھ کو وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی …

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے فارن/اوورسیز کوٹہ پر میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے بعد پاکستانی کرنسی میں فیس جمع کروانے سے متعلق سندھ کے میڈیکل کالجز کے طلباء کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے طلباء کی اپیل مسترد کر دی۔کیس کی سماعت بدھ کو وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت وکیل طلباء شہاب سرکی نے موقف اختیار کیا کہ طلباء کو خود یونیورسٹی نے اوورسیز کوٹہ میں داخلہ دیا تھا جبکہ طلباء کی ساری تعلیم پاکستان سے ہی تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ طلباء کو زبردستی فارن کوٹہ پر ڈالا۔وکیل طلباء کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی غلطی کی سزا طالب علموں کو نہیں دی جا سکتی اور طلباء کو صرف دوسری یونیورسٹیوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پی ایم ڈی سی کے وکیل جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ طلباء نے خود اوورسیز کوٹہ پر داخلے کے لیے درخواستیں دی تھیں جبکہ غلط کوٹہ پر داخلے میں سٹوڈنٹس اور یونیورسٹیز دونوں شامل ہیں۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ طلباء نے تعلیمی سال 2022-23میں اوورسیز کوٹہ پر میڈیکل کالجز میں داخلہ حاصل کیا تھا اور دو سال تک فارن کرنسی میں فیسیں ادا کرنے کے بعد مقامی کرنسی میں فیس ادا کرنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے طلباء کی رٹ درخواست خارج کر دی تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔